تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 359 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 359

۳۵۹ کوئی زمانہ نہیں آئے گا۔آنحضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی مثال بھی قیامت کے ساتھ اسی طرح دی اور اپنی اور مسیح کی مثال بھی اسی طرح دی کہ ہم دونوں اس طرح اکٹھے ہیں جس طرح انگلیاں جڑی ہوئی ہیں تو یہ مطلب تو نہیں تھا کہ بیچ میں زمانہ کوئی نہیں آتا۔مطلب یہ ہے کہ یہ زمانہ اس وقت تک ممتد ہوگا اور بیچ میں کوئی روک ایسی نہیں جو اس زمانے کو منقطع کر سکے اور پہلے کو دوسرے سے کاٹ سکے۔تو جس قوم کے اتنے لمبے سفر ہیں وہ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تکلیف محسوس کرنے لگیں اور دل چھوڑ نے لگیں ، یہ بات کوئی آپ کو زیب نہیں دیتی۔“ ان اجتماعات کا انعقاد انصار کی تربیت ، کارکردگی میں وسعت، تیزی اور ہمہ گیری پیدا کرنے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اخوت میں تقویت ، اجتماعی عبادات اور تبتل الی اللہ کا ماحول پیدا کر نے کی خاطر یہ اجتماعات بہت ضروری ہیں۔جب مرکزی سطح پر یہ اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہ ملی تو مجلس نے اس کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کی خاطر شہری اور ضلعی اجتماعات پر زیادہ زور دینا شروع کیا۔دوره اصلاح وارشا دسر گودها اصلاح و ارشاد کا مرکزی وفد ۲۷ نومبر ۱۹۹۰ء کو شام چار بجے ربوہ سے روانہ ہوا۔اس میں شامل ممبران نے مختلف مقامات پر لیکچر ز دیئے جس کی تفصیل اس طرح ہے۔چک ۳۸ میں مکرم مظفر احمد منصور صاحب نے (حاضری ساٹھ ) ، چک ۳۷ ج میں مکرم بشارت احمد صاحب چیمہ اور چک ۳۳ ج میں مکرم مولانا محمد اسماعیل صاحب منیر نے (حاضری تمہیں ) لیکچر دیئے۔سالانہ اجتماع اسلام آباد کے موقع پر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کا ولولہ انگیز پیغام ” میرے پیارے انصار بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کی طرف سے مجھے خوشی کی خبریں پہنچتی رہتی ہیں۔اسی طرح یہ پڑھ کر بھی خوشی ہوئی کہ مجلس انصار اللہ اسلام آباد کا سالانہ اجتماع منعقد ہورہا ہے۔اللہ کرے کہ یہ بابرکت اجتماع خدا تعالیٰ کے افضال اور برکات سے معمور ہو۔انصار اللہ اور اسلام آباد یہ دونوں نام آپ کو آپ کے مقام اور ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ اسلام کی زندگی اور غلبہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے مامور کی مدد کر نے والے لوگ جس طرح مسیح موسوی کی آواز پر حواریوں نے نَحْنُ أَنْصَارُ اللہ کہا تھا اور اس کے