تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 174
۱۷۴ وہاں بعض مہمان خواتین کو ٹھہرایا کرتے تھے تو قناتیں لگا کر۔۔۔بعض خطر ناک حصوں کو الگ کر دیا جا تا تھا تا کہ وہاں بچہ یا کوئی عورت نہ پہنچے اور اس طرح گزارہ چلتا رہا۔بالآخر انجینئر ز نے مشورہ دیا کہ یہ عمارت اتنی بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اب ہرگز لائق نہیں کہ اسے مزید آگے چلایا جائے۔چنانچہ دوحصوں میں ان کی عمارت کی تعمیر نو کا پروگرام بنا۔ایک دفتر اور ایک ہال۔دفتر تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو گیا ہے اور اس پر جو دس لاکھ کی رقم خرچ آئی ہے ، اس میں سے دس لاکھ ان کو میں نے قرضہ دلوا دیا تھا ، چار لاکھ لجنہ اپنی روز مرہ کی بچت میں سے واپس دے چکی ہیں۔چھ لاکھ کا یہ قرض لجنہ پر ہے۔اس کے علاوہ ہال کیلئے ان کو بیس لاکھ چاہئے۔اگر یہ بیس لاکھ قرض ان کو دیا جائے تو چھبیس لاکھ کی رقم ہے جو انہوں نے دوسال میں واپس کرنی ہے کیونکہ اگر چہ ان کی طرف سے تو یہی مطالبہ ہے کہ ہمیں صد سالہ جو بلی سے پانچ سال کا قرض دے دیا جائے۔صد سالہ جو بلی تو آنے میں اب دو سال رہ گئے ہیں باقی اس میں سے پانچ سال کا قرض دینے کا مطلب ہی کوئی نہیں اور یہ حال بھی صد سالہ جو بلی سے پہلے مکمل ہونا ضروری ہے بہر حال۔اس لئے میں نے سوچا ہے کہ دو سال کے لئے ان کو قرض دیا جائے اور ان کی طرف سے عالمی لجنات کو تحریک کی جائے کہ حسب توفیق جتنا بھی وہ بوجھ اٹھا سکتی ہیں وہ اس چندے میں حصہ لیں۔گذشتہ دوسال میں جماعت میں بار بار ایسی تحریکات کی گئیں کہ اس کے نتیجہ میں جماعت نے غیر معمولی قربانی دی ہے جماعت نے۔اتنی غیر معمولی ہے کہ یہ دو تین سال بہت ہی ممتاز دکھائی دیتے ہیں مالی قربانی کے لحاظ سے۔مجھے یقین ہے کہ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ جماعت کی جیبیں بھی بھرتا چلا جاتا ہے، استعداد بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے۔لیکن جہاں تک ظاہری فوری طور پر جائزے کا تعلق ہے جو حالات ان پر گزر رہے ہیں ان پر جو میں نے سرسری نگاہ ڈالی ہے میرا خیال ہے کہ خواتین پر اس وقت اتنا بڑا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ پچھلی تحریکات میں مالی قربانی میں عورتوں نے خصوصیت کے ساتھ اتنا بھر پور حصہ لیا ہے کہ فوری طور پر ان قربانیوں کے معا بعد اتنی بڑی تحریک کر دینا کہ خواتین خود اپنی طاقت سے یہ بوجھ اٹھائیں، یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ایک یہ وجہ ہے جس کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ مرد بھی ان کے ہال میں چندے دے کر اس نیکی میں ، اس قربانی میں شامل ہوں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ خواتین تو ہر تحریک میں حصہ لیتی ہیں خواہ مردوں کی ہو، خواہ عورتوں کی ہوا اور صرف خدام الاحمدیہ کی ایسی تحریک ہے جس میں وہ حصہ نہیں لیتیں لیکن دُنیا یہ کہتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ان کے متعلق اچھی تعلیم نہیں دی