تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 173 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 173

۱۷۳ لجنہ کے بارہ میں ہماری رائے میں قسیم کے جملہ اختیارات اب امیر کو منتقل ہو جائیں اور اس قاعدہ میں اس کے مطابق ترمیم کر دی جائے۔اگر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کمیٹی کی جملہ سفارشات کو منظور فرما ئیں۔اور اس کے مطابق ذیلی تنظیمیں اپنے اپنے دساتیر میں تبدیلی کر لیں۔والا مرالیکم انچارج مبلغین کے نائب صدر نہ رہنے کی وجہ سے یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ ذیلی تنظیمیں ایسے افراد کی رہنمائی سے محروم ہو جائیں گے جو کہ مرکز کے تربیت یافتہ اور مرکزی روایات سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن اس کی تلافی عملاً خود بخود ہو جائے گی کیونکہ جماعتی نظام میں مبلغ انچارج کو نائب امیر کا عہدہ بہر حال دیا گیا ہے۔اور وہ مجلس عاملہ میں موجود ہوں گے اور اُن کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔“ اس رپورٹ پر تینوں ممبران ( مکرم نواب منصور احمد خان صاحب ، مکرم محمود احمد صاحب شاہد اور مکرم مرزا غلام احمد صاحب) نے بھی دستخط کئے۔سید نا حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ رپورٹ ۴ جنوری ۱۹۸۷ء کو پیش ہوئی۔حضور نے رپورٹ کی اس تجویز پر کہ لجنہ کے بارہ میں ہمارے رائے میں قیم کے جملہ اختیارات اب امیر کو منتقل ہو 66 جائیں۔پر تحریر فرمایا۔امیر یا نیشنل پریذیڈنٹ کے الفاظ ہوں۔“ رپورٹ کے آخر پر حضور انور نے تحریر فرمایا: ووٹ نہ دے سکیں گے۔۔۔کو چھوڑ کر باقی سفارشات منظور ہیں۔“ دفاتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی تعمیر نو سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع نے دفا تر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی تعمیر نو کے سلسلہ میں فرمایا کہ خواتین ہر تحریک میں حصہ لیتی ہیں خواہ مردوں کی ہو یا عورتوں کی۔دنیا یہ کہتی ہے کہ دین نے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا اس لئے ہمیں خاص طور پر یہ دکھانا چاہئے کہ ہم نہ صرف یہ کہ برابری کا سلوک کرتے ہیں بلکہ ان دائروں میں بھی خدمت کے خواہاں ہیں جو خالصہ لجنہ اماء اللہ کے ہیں۔حضور نے تحریک فرمائی کہ مرکزی انجمنیں اور تنظیمیں دفاتر لجنہ کی تعمیر نو کے لئے بطور تحفہ لجنہ اماءاللہ کو کچھ نہ کچھ پیش کریں۔حضورا نور نے ۱۶ جنوری ۱۹۸۷ء کو بیت الفضل لندن میں خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا: صدر لجنہ اماءاللہ نے کچھ سال پہلے لجنہ کے دفاتر کی تعمیر نو کے لئے اجازت لی تھی اور ایک وسیع ہال بنانے کی اجازت لی تھی۔پرانی عمارت اتنی بوسیدہ ہو چکی تھی کہ وہ جگہ جگہ سے بعض دفعہ چھت سے بھی اینٹیں ٹوٹ کے گرتی تھیں اور جلسہ سالانہ کے دنوں میں جب ہم