تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1058 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1058

۱۰۵۸ تک یہ فرض بجالاتے رہے۔۱۹۸۷ ء تک مندرجہ ذیل مجالس کا قیام ہو چکا تھا۔ما کا ، جنجہ ، مبارارا ، مبالے دبئی چوہدری عنایت الرحمن صاحب بطور زعیم نومبر ۱۹۸۰ء تا۱۹۸۳ءخدمات بجالاتے رہے۔فلپائن جنوری ۱۹۸۷ء میں انصار اللہ کا قیام عمل میں آیا۔سویڈن مجلس انصار اللہ سویڈن کا قیام ۲۷ ستمبر ۱۹۷۹ء میں عمل میں آیا۔مالمو اور گوٹن برگ میں دو مجالس قائم ہوئیں۔پہلے نائب صد ر مکرم سید کمال یوسف صاحب، اور پھر علی الترتیب مربیان کرام مکرم منیر الدین احمد صاحب، مکرم کمال یوسف صاحب ، مکرم حامد کریم صاحب ، مکرم عبد القدیر صاحب، مکرم عبدالمجید صاحب عامر رہے۔پہلے ناظم اعلیٰ انصار اللہ ملک مکرم عبد الرؤف خان صاحب مالمو مقرر ہوئے۔۱۹۸۴ء میں مکرم ناظم اعلیٰ۔صاحب نے کتاب ”A CRISIS OF CONSCIOUS“ پچاس کا پیاں لنڈ یو نیورسٹی کے تعلیمیافتہ طبقہ کی اور مکرم ڈاکٹر پروفیسر عبدالسلام صاحب کی کتاب ISLAM AND SCIENCE, CONFLICT AND CONCORDANCE کی پچاس کا پیاں ۱۹۸۵ء میں شائع کر کے سویڈش طلبہ میں تقسیم کیں۔سپین ۱۹۷۹ء میں مکرم مولا نا کرم الہی صاحب ظفر نے سپین میں مجلس انصار اللہ کو قائم کیا۔ابتداء میں صرف تین انصار تھے لہذا سارے ملک پر مشتمل ایک ہی مجلس قائم ہوئی۔مجلس کا دوبارہ احیاء ۲۵ فروری ۱۹۸۳ء کو ہوا۔پہلے نائب صدر اس وقت کے مشنری انچارج مکرم سید میر محمود احمد صاحب ناصر مقرر ہوئے جبکہ معتمد عمومی مکرم عبدالرحمن صاحب کلمنتے (سپینش احمدی ) مقیم میڈرڈ مقرر ہوئے۔۱۶دسمبر ۱۹۸۳ء کومکرم عبدالرحمن صاحب کلمنتے ناظم اعلیٰ ملک مقرر کئے گئے۔۱۹۸۹ء میں مکرم رشید احمد صاحب زاہد ناظم اعلیٰ بنائے گئے۔۱۰ مارچ ۱۹۸۶ء سے ۷ ۱۹۸ ء تک مکرم عبد الستار خان صاحب مبلغ انچارج نائب صدر ملک کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔انصار کی تعداد بہت تھوڑی ہونے کی وجہ سے علیحدہ سالانہ اجتماع نہ ہو سکا۔تاہم ۳۰ اکتو بر ۱۹۸۳ء کو پہلے جلسہ سالا نہ پین کے موقع پر ممبران مجلس انصار اللہ کا اجلاس ہوا۔اس میں چارا انصار شامل ہوئے۔اجلاس کی صدارت مکرم سید میر محمود احمد صاحب ناصر نے کی اور انصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔