تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 989
۹۸۹ وہاں ”دستور اساسی“ کے مطابق نئے سرے سے زعماء اعلیٰ کے انتخابات کروائے جائیں اور انتخابات کے بعد زعماء صاحبان اپنے اپنے علاقوں کا جائزہ لیں کہ جن علاقوں میں تین یا تین سے زیادہ انصار مقیم ہیں، وہاں مجالس قائم کر کے زعماء حلقہ کے انتخابات کروائے جائیں۔ان ہدایات کی روشنی میں ناظم اعلیٰ نے تمام مجالس کو از سر نو منظم کیا اور دونئی مجالس برلن اور میونخ میں قائم کیں جس سے مغربی جرمنی میں بڑی مجالس انصاراللہ کی کل تعداد پانچ ہوگئی۔بعد ازاں ان مجالس کو ریجنز میں تبدیل کر دیا گیا۔۱۹۸۶ء میں ناظم اعلیٰ کی مرکز سے منظوری کے بعد مجلس فرانکفرٹ اور کولون میں انتخابات برائے زعماء اعلیٰ انصار اللہ کروائے گئے۔انتخابات کے نتائج درج ذیل ہیں : جنوری ۱۹۸۶ء میں فرانکفرٹ کیلئے مکرم چوہدری محمد رفیق اختر صاحب زعیم اعلیٰ منتخب ہوئے۔بعد ازاں ۱۵ مارچ ۱۹۸۷ء کو دوبارہ انتخاب کے نتیجہ میں مکرم بشارت احمد صاحب زعیم فرانکفرٹ مقرر ہوئے۔دسمبر ۱۹۸۷ء میں مجلس کولون کا انتخاب برائے زعیم اعلی انصار اللہ کر دیا گیا جس میں مکرم عبدالوحید ظفر رانا صاحب نئے زعیم منتخب ہوئے۔جونی مجالس قائم کی گئیں ان میں برلن میں مکرم نذر محمد خالد صاحب اور میونخ میں مکرم محمود احمد صاحب آف آگس برگ زعماء اعلیٰ انصار اللہ منتخب ہوئے۔اس کے ساتھ ساتھ پانچوں ریجنز سے مکمل رابطہ رکھا گیا اور وقتا فوقتا ہدایات دی جاتی رہیں۔ان تبدیلیوں کے نتیجہ میں انصار دوستوں میں ایک نئی روح اور جذبہ بیدار ہوا۔اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ جوش و خروش سے آگے آئے اور دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔پہلی نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ (جن کی مرکز سے منظوری حاصل ہوئی) مکرم محمد شفیع صاحب مکرم ناز احمد ناصر صاحب فاریجن دوستوں کیلئے مکرم مقصود احمد صاحب مکرم محمد اسلم شاد صاحب جرمن دوستوں سے رابطہ کیلئے اصلاح وارشاد، تربیت تعلیم مکرم بشیر احمد بھٹی صاحب مکرم مبشر احمد باجوہ صاحب مکرم محمد احمد صاحب مکرم محمد احمد گردیزی صاحب وقف جدید صحت جسمانی قلمی دوستی مال -1 -2 -3 -5 -6 -7 -8