تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 990 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 990

۹۹۰ -9 -10 اشاعت تجنيد مکرم ملک سعادت احمد صاحب مکرم داؤ د احمد ناصر صاحب ان میں سے مکرم محمد اسلم شاد صاحب نقل مکانی کی وجہ سے کام جاری نہ رکھ سکے جبکہ مکرم بشیر احمد بھٹی صاحب اور مکرم ملک سعادت احمد صاحب نے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے کام کرنے سے معذرت ظاہر کی۔دسمبر ۱۹۸۸ء میں ناظم اعلیٰ انصار اللہ کو مرکز کی طرف سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ ۱۹۸۹ء کے اوائل میں تمام ملک میں نئے سرے سے انتخابات برائے زعماء کروائے جائیں۔چنانچہ مرکزی ہدایات کی روشنی میں نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ مغربی جرمنی نے یہ فیصلہ کیا کہ پانچوں ریجنز میں زعماء اعلیٰ کے انتخابات کروائے جائیں۔ناظم علاقہ کی نامزدگیاں مکمل کی جائیں اور پھر زعماء صاحبان اپنے اپنے علاقوں میں ہر مجلس میں انتخاب کروا کر زعیم حلقہ مقرر کریں۔اور جب یہ تمام انتخابات مکمل ہو جائیں تو بر موقع سالانہ اجتماع مغربی جرمنی ناظم اعلیٰ کا انتخاب کیا جائے۔نیشنل مجلس عاملہ انصار اللہ مغربی جرمنی کے مندرجہ ذیل ممبران مقرر کیے جانے کی مرکز سے سفارش کی گئی: -1 -2 -3 مکرم عبد الغفور بھٹی صاحب مکرم مبشر احمد باجوہ صاحب ناظم اعلیٰ ملک نائب ناظم اعلیٰ م مبشر احمد باجوہ صاحب نائب ناظم اعلیٰ صف دوم مکرم نیاز احمد صاحب اعظم اعجاز احمد صاحب مكرم عبدالكبر يا صاحب معتمد عمومی صف اوّل اشاعت قلمی دوستی صف دوم وقف جدید تحریک جدید -6 -7 -8 مکرم شرافت اللہ خان صاحب صحت جسمانی مکرم داؤداحمد ناصر صاحب تجنيد نظامت علیاء کا قیام ۱۹۸۶ء میں ہوا تھا اور مکرم عبد الغفور بھٹی صاحب اس عہدہ پر ۱۹۸۹ء تک کام کرتے رہے۔مجالس کی تعداد جو ان کے تقرر سے پہلے صرف پانچ تھیں، بڑھ کرا یک سو پینسٹھ ہو گئیں۔ریجنز کا قیام : تعداد میں اضافہ کے باعث مجالس کو چھ ریجنز میں تقسیم کر دیا گیا اور وہاں ناظمین ریجنز کی تقرری کی گئی۔سالانہ بجٹ : ۱۹۸۶ ء میں سالانہ بجٹ چند سو مارک تھا مگر ۱۹۹۶ء کے آخر پر سالانہ بجٹ ایک لاکھ مارک سے تجاوز کر گیا۔ہر سال سو فیصد وصولی کر کے مرکز بھجوائی گئی۔گیسٹ ہاؤس تعمیر مرکزی گیسٹ ہاؤس کے لئے وعدہ جات کی سو فیصدی وصولی کر کے مرکز بھجوائی گئی۔گجراتی زبان میں ترجمہ قرآن کریم : گجراتی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ اور اشاعت کیلئے مجلس مرکزیہ کی