تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 972
۹۷۲ جہاں سے دس انصار نے شرکت کی ، ڈنمارک دوم ہے جہاں سے چھ انصار آئے ، ہالینڈ سے اور فرانس ، سپین ،سویڈن اور ناروے سے ایک ایک ناصر نے شرکت کی۔انصار اللہ کی اصطلاح کا ذکر جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انصار اللہ ایک ٹرم (TERM) ہے جسے قرآن کریم نے استعمال فرمایا ہے۔اور اس ٹرم کی تاریخ حضرت عیسی علیہ السلام کے دور سے شروع ہوتی ہے۔اگر چہ پہلے انبیاء کے وقت میں بھی بہت ابتلاء آتے رہے۔لیکن اس سے قبل کسی نبی نے اپنے پیروکاروں کو اتنے زیادہ جذباتی اور ابھارنے والے الفاظ میں مخاطب نہیں کیا کہ انصار اللہ کہہ کر آنے کے لئے بلایا گیا ہو۔حضرت عیسی علیہ السلام نے پہلی بار اپنے ماننے والوں کو مَنْ أَنْصَارِي اِلَی اللہ کہہ کر اپنی مدد کے لئے بلایا تھا۔اور دراصل اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے نام پر یا اللہ کے نام کی خاطر میری مدد کو آئے گا۔تو گویا سب پہلے حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو اس لقب سے پکارا اور دوسری دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس ٹرم کو ایک ادارے یا تنظیم (INSTITUTION) کے معنوں میں استعمال فرمایا اور بعد ازاں حضرت مصلح موعود نے اس ٹرم کو حیات نو بخشتے ہوئے یہ زه (NOBLE) نام ان احمدیوں کے لئے تجویز فرمایا جو چالیس سال کی عمر سے زیادہ کے ہوں اور جب تک وہ اپنے خالق حقیقی کے پاس بلا نہ لئے جائیں وہ اس نام سے موسوم رہیں گے۔تو اس طرح مجلس انصار اللہ جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیموں میں یوں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے کہ یہ لقب ایک عظیم المرتبہ نبی نے استعمال کیا اور خدا تعالیٰ نے اسے اتنا پسند فرمایا کہ قرآن کریم میں اسے درج کر دیا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس روح پرور دلچسپ واقعہ کی اطلاع دی کہ جب حضرت عیسی علیہ السلام پر ابتلاء آیا تو انہوں نے یہ کہہ کر اپنے حواریوں کو مدد کے لئے بلایا تھا۔تو گویا یہ بے مقصد بات نہیں ہے کہ اس ٹرم کا احیاء حضرت مسیح موعود کے وقت میں دوسری دفعہ کیا گیا۔اور اس لحاظ سے آپ خوش نصیب اور نیک بخت ہیں کہ آپ اس مجلس کے نمائندہ ہیں جس کی بنیاد جیسا کہ آپ بخوبی سمجھ گئے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رکھی تھی۔انصار اللہ کی عمر باعث شرمندگی نہیں جہاں تک انصار کی عمر کا تعلق ہے تو میں نے اس سے پہلے بھی بار ہا یہ بیان کیا ہے کہ انصار اللہ کی عمر باعث شرمندگی نہیں۔عام طور پر جس آدمی کی عمر چالیس سال سے تجاوز کر