تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 943 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 943

۹۴۳ تقریر میں مشنری انچارج مکرم مولانا عطاء اللہ صاحب کلیم نے آیات قرآنيه لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُوْلِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزَّوْرِ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ احباب جماعت کو بیش قیمت نصائح کیں کہ ہمیں قول سدید اپنا نا چاہیے۔تربیت، دعوت الی اللہ اور ایثار ہمارا لائحہ عمل ہونا چاہیے۔قرآن کریم سے اتنی یگانگت ہو کہ ہمارے اخلاق واطوار سے اس کی جھلک نمایاں ہوتی رہے۔اس کے بعد مکرم ملک مسعود احمد صاحب نیشنل ناظم اعلیٰ نے سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا مندرجہ ذیل خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا۔پیغام حضرت خلیفہ اسیح الرابع بسم الله الرحمن الرحيم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هوا لناصر ”میرے پیارے بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ مجلس انصارالله U۔S۔A اپنا اجتماع ۲۱ ۲۲ مئی ۱۹۸۳ء کو منعقد کر رہی ہے۔میری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل اور رحم کے ساتھ اس اجتماع کو تمام شمولیت کرنے والوں کے لیے کامیابی اور فضل کا باعث بنائے۔میری دعا ہے کہ آپ کا شمار ان مسلمانوں میں ہو جو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں بیچتے ہیں۔سچا مسلمان وہ ہے جو اپنی ذات کی مکمل طور پر نفی کر کے خدا تعالیٰ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض سے کبھی غافل نہیں ہوتا ہے اور اسے ہمیشہ یادرکھتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے اور اس کی رضا کو حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کرتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کسی قسم کی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتا۔وہ خدا تعالیٰ کو اول و آخر خیال کرتا ہے۔ارکان اسلام میں نماز سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے۔نماز اس کو دن میں کم از کم پانچ مرتبہ یہ موقع مہیا کرتی ہے کہ وہ دنیاوی معاملات سے آزاد ہو کر اپنے وقت کو مکمل طور پر خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کر دے۔وہ باریک بینی سے اپنی با ضابطہ نمازوں کا محاسبہ کرتا ہے۔ان کا محتاط مشاہدہ کرتا ہے اور سختی سے ان میں با قاعدگی پیدا کرتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی عظمت کو تب بھی ذہن میں رکھتا ہے جبکہ وہ باضابطہ نماز میں مصروف نہیں ہوتا۔درحقیقت ایک سچا مسلمان ہمیشہ نماز کی حالت میں ہوتا ہے۔وہ ہر وقت خدا تعالیٰ کے حضور جسمانی اور روحانی طور پر جھکا رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی محبت سے بھر پور یا داس کو روحانی