تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 841
اجتماع ضلع شیخو پوره ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۷ء کو صبح ساڑھے نو بجے اجلاس اوّل کا انعقاد ہوا۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد مکرم محمد اسلم شاد منگلا صاحب نے تربیت اولاد کے موضوع پر تقریر کی۔ازاں بعد مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے دعوت الی اللہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ پیش کیا۔نماز جمعہ کے بعد اجلاس دوم کا آغاز ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد مکرم ملک لطیف احمد صاحب سرور ناظم ضلع نے تربیتی امور پر تقریر کرتے ہوئے دعوۃ الی اللہ کے ضمن میں مکرم صدر صاحب مجلس کا پیغام سنایا کہ دنیا میں بڑی سرعت کے ساتھ تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔اس لئے ہر احمدی خود اپنا نگران بن جائے اور خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ عہد کرے کہ میں نے سال کے اندر ایک احمدی ضرور بنانا ہے۔دعا کے ساتھ یہ اجتماع اختتام کو پہنچا۔چھپن مجالس کے چار سو چھیانوے افراد نے شرکت کی۔اجتماع ضلع لاہور مورخہ ۲۰ نومبر ۱۹۸۷ء کو نماز تہجد و فجر کے ساتھ اجتماع کا آغاز ہوا۔اجتماع میں مکرم مولا نا دوست محمد صاحب شاہد، مکرم مرزا محمد الدین ناز صاحب، مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب اور مکرم چوہدری شبیر احمد صاحب نے تقاریر کیں۔آخر پر انعامات تقسیم کئے گئے اور دعا کے بعد اجتماع اختتام کو پہنچا۔حاضری چھ سورہی۔اجتماع ضلع رحیم یارخان یکم دسمبر ۱۹۸۷ء کو بعد نماز عصر تلاوت اور نظم کے ساتھ اجتماع ہوا۔مکرم لطیف احمد شاہد صاحب نے افتتاحی خطاب فرمایا۔مجلس سوال وجواب کا انعقاد بھی ہوا۔۲ دسمبر کو نماز تہجد و فجر کے بعد درس قرآن و حدیث ہوا۔نو بجے تیسرا جلاس شروع ہوا۔انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ کے تلاوت نظم اور تقریر کے مقابلہ جات کروائے گئے۔جمعہ کے بعد اختتامی اجلاس ہوا جس میں تقسیم انعامات کے بعد مکرم پروفیسر محمد اسلم صابر صاحب نے اختتامی خطاب فرمایا۔دعا کے ساتھ اجتماع اختتام پذیر ہوا۔حاضری ساٹھ رہی۔اجتماع مجالس ضلع کوٹلی ۴، ۵ دسمبر ۱۹۸۷ء کو مجالس ضلع کوٹلی کا تربیتی اجتماع منعقد ہوا۔مکرم مولوی عبدالوہاب صاحب مربی سلسلہ نے تربیتی امور کے علاوہ دعوت الی اللہ کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا۔ضلع کی سات مجالس میں سے چھ کی نمائندگی میں حاضری ساٹھ رہی۔