تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 787 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 787

ZAZ آپ نے دوستوں کے سوالات کے مناسب مدلل و مفصل جوابات دیئے۔نگران صاحب حلقہ نے احباب کا شکر یہ ادا کیا۔بعد دعا اجلاس برخاست ہوا۔صاحب خانہ چوہدری محمد امین صاحب نے احباب کی چائے سے تواضع کی۔حاضری احباب جماعت اتنی دیگر مہمان پندرہ۔(۶) حلقہ بٹالہ کالونی: ۲۶ ستمبر کو بعد نماز مغرب زیر صدارت مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف مجلس مذاکرہ کا انعقاد ہوا۔زعیم اعلیٰ صاحب نے مجلس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔مکرم مولانا صاحب نے اپنے خطاب میں عقائد احمدیت احسن پیرایہ میں بیان کرتے ہوئے تاریخ احمدیت کے ایمان افروز واقعات پیش کئے۔ایک دوست کے سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ موجودہ مشکلات کا حل صرف اور صرف اسلام اور احمدیت میں ہے جو کہ خلافت کے ساتھ مشروط ہے۔آپ نے مثالوں سے وضاحت فرمائی کہ ہم بچے دل سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتے ہیں یہی ہمارا جزوایمان ہے۔ہم اس کے وہی معنی کرتے ہیں جو بزرگان سلف کرتے آئے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اسلام تمام دنیا پر غالب ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا جھنڈا بلند ترین ہو۔معزز مقرر نے لبنان ، بیروت کا تاریخی پس منظر بیان کیا اور وہاں کے باشندگان پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم کا درد بھرے الفاظ میں ذکر کرتے ہوئے اُن کے لئے دعا کی تحریک کی۔زعیم اعلیٰ نے احباب کا شکر یہ ادا کیا۔بعد دعا یہ اجلاس اڑھائی گھنٹہ جاری رہنے کے بعد برخاست ہوا۔حاضری احباب جماعت تراسی ، مہمان آٹھ رہی۔تقسیم کر دہ لٹریچر ہمارا مذہب ۵۰ عدد، زنده رسول ۵۰ عدد ، هما را خدا ۳۵ عدد، زنده کتاب قرآن ۴۰ عدد، پیغام احمدیت ۳۰ عدد، شوق جہاد کبیر ۶۰ عدد، مسئلہ تکفیر اعدد، احمدی اور غیر احمدی میں فرق ۲۰ عدد، رسالہ انصار اللہ ۱۳ عدد، پاکیزہ تعلیم ۱۳۵ عدد، فولڈر مسجد اسپین ۲۵۰ عدد مجلس مقامی ربوہ کا ایک روزہ سالانہ تربیتی اجتماع مجلس انصاراللہ ربوہ نے اپنا یک روزہ سالانہ تربیتی اجتماع ۲۵ ستمبر ۱۹۸۲ء بروز ہفتہ مسجد اقصیٰ میں منعقد کیا۔انصار کی حاضری آٹھ صد کے قریب تھی۔اس اجتماع کا آغا ز مکرم قاری محمد عاشق صاحب کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔جس کے بعد مکرم مولانامحمد شفیع اشرف صاحب ناظر اصلاح وارشاد تعلیم القرآن نے عہد دہرایا۔مکرم پر و فیسر محمد اسلم صابر صاحب کی نظم کے بعد زعیم اعلیٰ مکرم مولوی محمد بشیر شاد صاحب نے مجلس ربوہ کی کارگزاری کی مختصر رپورٹ سنائی جس کے بعد مکرم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب نے اپنے افتتاحی خطاب میں حاضرین کو تلقین فرمائی کہ وہ اس اجلاس کے پروگراموں سے فائدہ اٹھا ئیں اور پیش کئے جانے پر وگرام میں بھر پور حصہ لیں اور علماء کے خیالات عالیہ اور مواعظ حسنہ سے اپنی جھولیوں کو بھر کر اپنے دل کو سیراب اور روح کو