تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 726 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 726

مرکزی امتحانات ۷۲۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء مبارک یہ تھا کہ جماعت کے دوست دینی علوم میں دسترس حاصل کریں اور پھر ان کے امتحان بھی ہوں تا کہ معلوم ہو سکے کہ وہ صحیح رنگ میں علم حاصل کر چکے ہیں یا نہیں؟ چنانچہ حضور فرماتے ہیں: چونکہ یہ ضروری سمجھا گیا ہے کہ ہماری اس جماعت میں کم از کم ایک سو آدمی ایسا اہل فضل اور اہل کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعوی کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویہ قطعیہ خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو۔۔۔۔پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اور اہل علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۱ ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے تیار ہو جائیں۔تعطیلوں پر قادیان پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دیں“۔(۲) اس سلسلہ میں بعد میں حضور نے فرمایا: دسمبر کے آخر میں جو احباب کے واسطے امتحان تجویز ہوا ہے۔اس کو لوگ معمولی بات خیال نہ کریں اور کوئی اسے معمولی غذر سے نہ ٹال دے۔یہ ایک بڑی عظیم الشان بات ہے۔اور چاہئے کہ لوگ اس کے واسطے خاص طور پر اس کی تیاری میں لگ جاویں“۔(۳) نیز حضور نے فرمایا: ”ہماری جماعت کو علم دین میں تفقہ پیدا کرنا چاہئے۔۔۔۔ہمارا مطلب یہ ہے کہ وہ آیات قرآنی و احادیث نبوی اور ہمارے کلام میں تدبر کریں ، قرآنی معارف و حقائق سے آگاہ ہوں۔اگر کوئی مخالف ان پر اعتراض کرے تو وہ اُسے کافی جواب دے سکیں۔ایک دفعہ جو امتحان لینے کی تجویز کی گئی تھی ، بہت ضروری تھی۔اس کا ضرور بند وبست ہونا چاہئے“۔﴿۴﴾ ان اغراض سے مجلس انصار اللہ میں دینی امتحانات کا سلسلہ اس طرح جاری رہا کہ ۱۹۷۹ ء اور ۱۹۸۰ء میں امتحان کے لئے انصار کے دو معیار رکھے گئے تھے۔دیگر کتب کے علاوہ معیا راول میں ترجمہ قرآن کریم کا امتحان شامل تھا اور معیار دوم میں ترجمہ کی بجائے قرآن مجید ناظرہ یا قاعدہ میسر نا القرآن رکھا گیا تھا۔۱۹۷۹ء سے ۱۹۸۱ء تک چار امتحانات سالانہ تھے۔۱۹۸۲ء سے ۱۹۸۶ ء تک تین امتحانات لئے جاتے رہے۔۱۹۸۷ء و ۱۹۸۸ء میں اجتماعی پروگرام میں انصار کے مطالعہ کے لئے ہر ماہ ایک کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مقرر کی گئی۔ماہوار مطالعہ والی کتب میں سے ہر تین ماہ بعد ایک مقررہ کتاب کا مرکزی طور پر تحریری امتحان منعقد ہوتا رہا۔اس طرح سال میں چار عدد یک کتابی اور دوششما ہی مجموعی امتحان لئے گئے جن کا