تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 591 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 591

۵۹۱ ١٩٩٧ء اجتماعات برائے نو مبائعین پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مکرم و محترم ناظر اعلی صاحب صدرانجمن احمدیہ کو اپنے خط محرر ۲۴ جنوری ۱۹۹۷ء میں حضور انور کا درج ذیل ارشاد تحریر فرمایا: ر پورٹوں میں بڑی تعداد میں بیعتوں کا ذکر ہوتا ہے لیکن جلسوں میں ان کی حاضری بہت کم تعداد میں ہوتی ہے اور یہ بات میرے لئے بڑی پریشانی کا موجب ہے کہ آخر یہ کیا تماشا ہو رہا ہے۔اجتماعات اور جلسوں پر نو مبائعین سے جو را بطے ہوتے ہیں وہ بھی بہت معمولی ہوتے ہیں (جیسا کہ صدر صاحب انصار اللہ پاکستان نے اپنی رپورٹ ۹۷۔۱۔۹/۲ میں ذکر فرمایا ہے ) یہ کام بہت اہمیت کا حامل ہے اور خصوصی توجہ چاہتا ہے اس لئے دعوت الی اللہ والے سب ناظران اور ذیلی تنظیموں کے متعلقہ سیکرٹریان اپنا اپنا ایک نائب رکھیں جو صرف نو مبائعین کو آرگنا ئز کرے اور آئندہ جلسے اور اجتماعات ان علاقوں میں صرف ان کے بھی الگ ہوا کریں۔ان کے عہدے دار بھی اپنے ہوں۔انتظامی امور میں بھی ایک پرانا تجربہ کارافسر ہو اور باقی ان میں سے ہی ہوں تو تب ان میں زندگی پڑے گی اور یہ فعال ہوں گے ورنہ خانہ پُری ہی رہے گی۔اور عملاً ( ان کی تعداد) کسی کام نہیں آئے گی۔ہم نے یہاں خدام الاحمدیہ کے اجتماعات میں کبھی نہ شریک ہونے والوں کا گزشتہ سال الگ اجتماع کیا تھا تو اس کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے حاضری غیر معمولی طور پر بڑھ گئی اور کم سے کم ایک تہائی مزید خدام تنظیم کا فعال حصہ بن گئے۔آپ بھی اس نہج پر کام کروا ئیں۔ہر ذیلی تنظیم میں نو مبائعین کا الگ شعبہ بنا ئیں۔شعبہ نو مبائعین لجنہ۔شعبہ نو مبائعین خدام اور شعبہ نو مبائعین انصار الگ الگ قائم کروائیں اور پھر ان کے ذریعہ جہاں جہاں گزشتہ سال در سال میں بیعتیں ہوئی ہیں اور دو تین لاکھ کا اضافہ ہوا ہے، اسے ریکارڈ کرائیں اور فعال جزو بنا ئیں۔پس ان کی الگ تنظیمیں ، الگ فہرستیں، الگ عہدیدار اور کارکن ہوں۔ان کے جلسے اور اجتماعات جماعتی حیثیت سے سالانہ یا ششماہی الگ ہوں اور ان کی مکمل رپورٹیں تیار کروا کے بھجوائیں۔ان جلسوں میں ان کے ہی آدمی تقریریں کریں اور بتائیں کہ ہم کیسے احمدی ہوئے۔ان جلسوں کیلئے مرکزی نظام کی طرف سے برکات الدعا اور معجزات وغیرہ سے متعلق مضامین بھی بے شک لکھ کر ان کو دیئے جائیں جو وہ وہاں پڑھ کر سنائیں“۔اسی طرح صدر محترم کی طرف سے قائدین اور علمائے سلسلہ کے دورہ جات کی رپورٹ پیش ہونے