تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 558
۵۵۸ تاہم یہ شکل اس لئے رد کر دی گئی کہ صدر انجمن احمد یہ اور صد سالہ جو بلی فنڈ سے پہلے ہی وظائف جاری ہیں۔اسی اجلاس میں اس امر کا اظہار بھی ہوا کہ تھر پار کر کے علاقہ میں ڈسپنسری کی ضرورت ہے۔۳ نومبر ۱۹۸۶ء کے اجلاس عاملہ میں یہ معاملہ پھر زیر غور آیا اور مرکزی مجلس عاملہ نے تجویز کیا کہ مجلس کی طرف سے موبائل ڈسپنسری یا ہسپتال ضلع تھر پارکر میں تعمیر کیا جائے جو دس بستروں پر مشتمل ہوا۔جلد تعمیر کی غرض سے یہ بھی طے ہوا کہ گر ڈر اور ٹی آئرن استعمال کر کے چھت ڈال دی جائے۔فیصلہ کیا گیا کہ اس معاملہ کو مجلس شوریٰ انصاراللہ میں پیش کر کے اراکین سے مشورہ حاصل کیا جائے۔چنانچہ مجلس مرکزیہ کی طرف سے یہ تجویز مجلس شوری (۱۹۸۶ء) میں پیش کر دی گئی۔۱۹۸۶ء میں شوری مجلس انصاراللہ پاکستان نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں یہ سفارش کی کہ احمد یہ صد سالہ جو بلی کی مناسبت سے مجلس شکرانہ کے طور پر تھر پارکر سندھ میں ایک چھوٹا سا ہسپتال بنا کر انجمن احمد یہ وقف جدید کے سپرد کرے گی اور اس غرض کے لئے دس لاکھ روپے کی رقم مجلس انصار اللہ پاکستان کے اراکین عطیات دیں گے۔اس سفارش کو حضور نے بایں الفاظ شرف قبولیت بخشا منظور ہے۔جزاکم اللہ احسن الجزاء۔جگہ کا انتخاب اپنے لندن قیام کے دوران محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس نے سید نا حضرت خلیفہ المسح الرابع کی خدمت میں عرض کیا کہ تھر پارکر میں کسی جگہ ہسپتال تعمیر کیا جائے۔حضور نے فرمایا کہ جائزہ لے لیں۔پھولپورہ کے علاقہ میں اکثر جماعتیں ہیں۔یہاں پانی بھی میٹھا ہے۔یہاں ہسپتال بنایا جاسکتا ہے یا نگر پار کریا اس کے ارد گرد کسی احمدی گاؤں کا انتخاب مناسب ہو گا۔حضور نے کسی خاص جگہ کی تعین نہ فرمائی بلکہ ارشاد فرمایا کہ اس علاقہ میں ان خطوط پر مختلف مقامات کا جائزہ لے لیا جائے۔اس پر صدر محترم نے مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب کو ابتدائی جائزہ لینے کی ہدایت کی۔( خط صدر محترم محرره ۱۷ ستمبر ۱۹۸۷ء)۔اجلاس عاملہ منعقدہ ۲۷ ستمبر ۱۹۸۷ء میں زمین کے حصول اور نقشہ پر تفصیلی بحث ہوئی نیز پیش آمدہ مشکلات کے حل پر بھی غور ہوا۔علاوہ ازیں ۲۵اکتوبر ۱۹۸۷ء کو جگہ کے انتخاب کے سلسلہ میں مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب اور مکرم چوہدری اللہ بخش صادق صاحب پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی۔اس غرض کے لئے مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ کراچی، تھر ویلفیئر کمیٹی اور اس علاقہ کے انچارج وقف جدید اور کارکنان سے بھی مشورہ لیا گیا۔۳۰ جنوری ۱۹۸۸ء کو ایک وفد جس میں محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس، محترم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ، محترم چوہدری اللہ بخش صادق صاحب ناظم ارشاد وقف جدید، محترم بریگیڈیئر اعجاز احمد صاحب ( نمائندہ تھر ویلفیئر کمیٹی کراچی ) اور محترم میجر عبدالحمید شر ما صاحب انچارج وقف جدید تھر پارکر شامل تھے مٹھی پہنچا۔پھر یہ وفدا سلام کوٹ، دیر واہ سے ہوتا ہوانگر پار کر گیا۔نگر پارکر سے پھولپورہ میں جائزہ لیا گیا۔مٹھی اور نگر پارکر کے دو مقامات زیر غور آئے۔بجلی ، پانی کی سہولت اور اس کے قرب میں جماعتوں کی موجودگی اور