تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 19 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 19

۱۹ سے دوسرے پہلو سے اس کو پورا فرما دیا ہے۔اور تعداد بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔اور ہمارے دل اس کی رضا پر بہت راضی ہیں۔الحمد للہ علی ذلک۔احمدی بوڑھے دن بدن جوان ہوتے جارہے ہیں جہاں تک سائیکل سواران کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے اس دفعہ انصار نے نئی منزلیں طے کی ہیں۔اس میں بہت سی ایسی مجالس شامل ہوئی ہیں جو اس سے پہلے کبھی شامل نہیں ہوئی تھیں۔مثلاً جھنگ ، سیالکوٹ، راولپنڈی، ملتان اور اوکاڑہ کی مجالس پہلے بھی سائیکل سوار بھیجنے کی توفیق نہیں پاتی تھیں۔اب اللہ کے فضل سے انہوں نے بھی انصار سائیکل سوار وفود یہاں بھجوائے ہیں۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ کچھ اور منزلیں بھی اس لحاظ سے طے ہوئی ہیں کہ پہلے جو انصار سائیکلوں پر آیا کرتے تھے ان کی اوسط عمر بالعموم چھوٹی ہوتی تھی۔گذشتہ سال خدا تعالیٰ کے فضل سے کچھ دوست نسبتاً زیادہ عمر کے بھی سائیکلوں پر تشریف لائے تھے۔لیکن اس سال ان کوششوں میں بہت نمایاں اضافہ ہوا جو انصار کی جواں ہمتی کا اس لحاظ سے ایک نشان ہے کہ سائیکل سواران میں ایک اسی سالہ بزرگ بھی شامل ہیں۔یہ بزرگ مکرم چوہدری عطاء اللہ صاحب ہیں جو خدا تعالیٰ کے فضل سے تو فیق پاتے ہوئے بڑی جواں ہمتی کے ساتھ چک نمبر ۱۷ اچھور ضلع شیخو پورہ سے سائیکل پر ربوہ پہنچے ہیں۔یہ تو نسبتا نز دیک کا فاصلہ ہے۔انصار کے ایک جواں ہمت رکن مکرم علی محمد صاحب جن کی عمر پچہتر سال ہے، تھر پارکر سندھ سے سات سو میل کا سفر کر کے یہاں پہنچے ہیں۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔احمد کی بوڑھے دن بدن جوان ہوتے جارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری اجتماعی زندگی کے بعض پہلو ایسے ہیں جن میں انصار کو بہر حال خدام پر فوقیت حاصل ہے۔وہ عمر کے لحاظ سے جماعت کے ایسے طبقہ میں شامل ہیں جن کو عموماً عبادت کی زیادہ توفیق ملتی ہے۔دعاؤں کی زیادہ توفیق ملتی ہے۔ایسے ہی انصار بزرگوں میں سے حضرت مولوی محمد الدین صاحب ایک ہیں جن کی عمر اس وقت سو سال سے کچھ تجاوز کر چکی ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم اور نہایت مخلص خدام میں سے ہیں۔چار پائی پر پڑے ہوئے ہیں۔بولنے کی بھی پوری طاقت نہیں۔لیکن جب میں سپین سے واپس آکر ان سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ تمام عرصہ وہ دعائیں کرتے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مسجد بشارت سپین کی افتتاحی تقریبات کو کامیاب کرے۔نیز فرمایا کہ میرے دل میں یہ حسرت رہی کہ کاش ! میں بھی شامل ہو سکتا۔میں نے کہا آپ کی جگہ خدا تعالیٰ کے فرشتے