تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 343
۳۴۳ ہوئے ان میں ایسی مثالیں شاذ شاذ پیش آتی رہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تحریک جدید نے خلافت کے سامنے اپیل کی کہ مجلس خدام الاحمدیہ یا مجلس انصار اللہ یا مجلس لجنہ اماء اللہ یہ اپنی ذات میں ایسے فیصلے کر لیتے ہیں، ان کو حالات کا پتہ ہی کچھ نہیں اور وہ جماعت کے لئے مضر اور نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔چنانچہ ایک اور رابطہ بیچ میں قائم کر دیا گیا یعنی مجالس کے صدران تو وہی رہے لیکن وہ رفتہ رفتہ اس بات کے پابند کر دیئے گئے کہ تحریک جدید کو اپنا مشیر سمجھیں اور اس کے نتیجے میں ایک انوکھی شکل پیدا ہو گئی۔تحریک جدید انجمن کا رنگ رکھتی ہے اور نظام جماعت کے اوپر ، جہاں تک بیرون پاکستان کا تعلق ہے، بیرونِ ہندوستان یا بیرون بنگلہ دیش بھی شامل کر لینا چاہئیے ، سارے نظام کی ذمہ دار تحریک جدید ہے لیکن یہاں ذیلی تنظیموں کے ایک قسم کے نائب کے طور پر یا مشیر کے طور پر کام کرنے لگی اور ذیلی تنظیموں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوا کہ یہ مشیر اتنا طاقتور ہے کہ اس مشیر کو ہم لگام نہیں دے سکتے اور جو مشیر تھا وہ عملاً نگران بن گیا لیکن عملا نگران اس رنگ میں بنا کہ وکیل التبشیر بھی ان باتوں پر تفصیل سے غور کرنے کے بعد مشورے نہیں دیتا تھا بلکہ دفتر ی طور پر ایک قسم کی دخل اندازی سی شروع ہوگئی اور دونوں جگہ بے اطمینانی کا احساس بڑھنے لگا۔جب اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد یہ ذمہ داری فرمائی تو مجھے یہ خیال آیا کہ مرکزی تنظیموں کے وقار کو بحال کرنے کے لئے جب تک دنیا کے یہ قائدین مقرر ہیں ، ان کو اپنی ذمہ داری کا کچھ نہ کچھ احساس دلایا جائے اور ان سے کہا جائے کہ دنیا سے تعلق رکھو اور رابطے بڑھاؤ اور سفر اختیار کرو اور معلوم تو کرو کہ کیا ہو رہا ہے۔اس کے بعد جب اہم فیصلے کرو تو تحریک جدید سے ضرور مشورہ کرو۔لیکن بالعموم خلافت سے جو ہدا یتیں تمہیں ملتی ہیں وہ دنیا میں جاری کرو اور اگر مرکزی کہلانا ہے تو مرکزی بنو۔چنانچہ جب انہوں نے مرکزی بننا شروع کیا تو پھر بعض اور خامیاں سامنے آنی شروع ہو ئیں۔بہت سے ایسے غلط فیصلے ہونے شروع ہوئے جو پہلے کام نہ ہونے کے نتیجے میں نہیں ہوتے تھے۔اب جب کام کھل کے ہونا شروع ہوا تو پتہ لگا کہ یہ محدود دائرے کی اطلاعیں ہیں اور محدود دائرے کی اطلاعات جب مرکز میں پہنچتی ہیں تو مرکزی دماغ ان معلومات پر صحیح فیصلہ کرنے کا اہل نہیں بنتا۔اس لئے لازماً اس سارے نظام کو خلافت سے وابستہ کرنا پڑے گا۔اس طریق پر جس طریق پر دنیا کے باقی نظام وابستہ ہیں اور بیچ سے یہ جو واسطے ہیں یہ ہٹانے پڑیں گے۔چنانچہ امسال جلسہ سالانہ کے بعد میں نے مرکز یعنی پاکستان سے آئے ہوئے سلسلے کے مختلف بزرگوں اور انجمن اور تحریک اور بعض ذیلی تنظیموں کے نمائندوں سے مشورہ کیا تو سب کی بالا تفاق رائے یہی تھی کہ اس نظام میں تبدیلی کی شدید ضرورت ہے۔چنانچہ آج میں اس تبدیلی کے متعلق