تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 344 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 344

۳۴۴ اعلان کرنا چاہتا ہوں۔نظام میں تبدیلی سے مراد یہ نہیں کہ خدام الاحمدیہ کے نظام بحیثیت نظام کے تبدیل کئے جارہے ہیں صرف رابطے میں تبدیلی کا نظام مراد ہے تو فیصلہ یہ ہے کہ آئندہ سے جس طرح پاکستان کا صدر خدام الاحمدیہ انجمن کا ممبر بھی ہوتا ہے اور باقی ناظروں کی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو جواب دہ ہوتا ہے اور اس سے ہدایات لیتا ہے اور اس کے سامنے اپنے مسائل رکھتا ہے۔اس طرح باقی دنیا کے صدر ان مجلس خدام الاحمدیہ بھی براہ راست خلیفہ وقت سے تعلق رکھیں اور اپنی مرکزی مجلس کا واسطہ اختیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔یہ نظام اس لئے بھی ضروری ہے کہ آگے مجلس خدام الاحمدیہ مثلاً یا دوسری مجالس بھی ہیں ، ان میں تفصیلی طریق کار یہ ہے کہ ایک منتظم بیرون بنایا جاتا ہے اور منتظم بیرون کی اپنی علمی حیثیت یا جماعت سے واسطے کی حیثیت یا کام کے تجربے کی حیثیت بالعموم ایسی نہیں ہوتی کہ وہ تمام دنیا کی مجالس پر جو دن بدن پھیلتی چلی جارہی ہیں اور بڑھتی چلی جارہی ہیں اور قوی تر ہوتی جا رہی ہیں ، ان پر نظر بھی رکھے۔ان کے حالات سے واقف ہو اور صحیح مشورہ صدر کو دے سکے۔اوّل تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے، اپنی ذات میں معلومات کا دھارا تنگ ، اوپر سے صدر اور مجالس کے درمیان ایک اور واسطہ پڑ جائے جو مجلس بیرون کے سیکرٹری کا واسطہ ہو۔اس کو مہتم کہا جاتا ہے یا انصار اللہ میں غالبا کوئی اور نام ہے بہر حال اس بے چارے کو کچھ پتہ لگ ہی نہیں سکتا کہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔یا تو من وعن ہر رپورٹ کو اسی طرح قبول کرتا چلا جائے گا اور اس میں بعض غلط مشورے آئیں گے تو اس کو پتہ نہیں لگے گا کہ اس کو قبول کرنا ہے یا نہیں کرنا۔چنانچہ ایسے فیصلے بعض دفعہ غلطی سے ہو گئے کہ ایک ایسا شخص جس کے متعلق خلیفہ وقت کو تو علم تھا کہ وہ ایک بیرونی خطر ناک تنظیم کا نمائندہ بن کے جماعت میں داخل کیا گیا ہے لیکن اس کی تفصیل سے تحریک کو بھی علم نہیں تھا۔وہ سارے ملک کا صدر منتخب ہو جاتا ہے اور مجلس مرکز یہ کی طرف سے منظوری کی اطلاع چلی جاتی ہے یا جانے لگتی ہے تو بات علم میں آجاتی ہے۔ایسا ایک واقعہ اس زمانے میں ہوا جب میں خود تحریک جدید میں عارضی طور پر وكيل التبشیر کے طور پر کام کر رہا تھا۔چنانچہ ایک شخص کے متعلق چونکہ میرا ذاتی تاثر ( میں دنیا کا دورہ کر کے آیا تھا اپنے طور پر ) ایسا تھا کہ جب اس کی اطلاع ملی کہ یہ کچھ اہم عہد یدار بنے لگا ہے تو میں نے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا ( آپ کی معلومات اس سے بہت زیادہ تھیں جو میرا تاثر تھا آپ نے فرمایا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا فوری طور پر تحریری حکم دو کہ یہ کام نہیں ہو گا اور ان کو سمجھاؤ کہ ایسے معاملات میں پہلے مشورہ کیا کریں جو بڑے اہم فیصلے ہیں اور بعد میں بھی ایسے اِکا دُکا واقعات ہوتے رہے تو اس وجہ سے عملاً دنیا کی