تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 7 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 7

اس عظیم تنظیم کی صدارت کی ذمہ داریاں سونپی گئیں تو آپ نے بجا طور پر فرمایا کہ اب مجلس انصار اللہ جوان ہو گئی ہے۔آپ نے واقعی اپنی خدا دا دصلاحیتوں سے بظاہر عمر رسیدہ لوگوں پر مشتمل اس تنظیم کے اراکین کو جوانوں کا جوان بنا دیا۔آپ نے جہاں مجلس انصار اللہ کو نئی زندگی بخشی وہاں دفتر انصار اللہ مرکزیہ کی تعمیر کروا کے آپ نے مجلس کے کام کو منظم کیا اور نئی جہتوں پر اسے گامزن کر دیا۔آپ کے دوش مبارک پر خلافت کی عظیم ذمہ داریاں پڑنے کے بعد بھی حضور کی ذاتی توجہ اور راہنمائی کے نتیجہ میں ہماری تنظیم و تربیت کا براہ راست سلسلہ جاری رہا۔جس کے بعد سائیکل سفر، خدمت خلق تعلیم القرآن اور دیگر جماعتی خدمات میں انصار اپنے نوجوان بھائیوں کے دوش و بدوش چلنے کے قابل رہے۔انصار اللہ کی تنظیم میں نائب صدر صف دوم اور تین اضافی نائب صدر ان کے تقرر کے ارشاد سے زندگی کی ایک نئی لہر دوڑانے کا سامان فرمایا۔حضور کے ساڑھے سولہ سالہ عہدِ خلافت میں جماعت نے جس تیز رفتاری سے زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے ، وہ آپ کی انتھک محنت ، فراست اور تعلق باللہ پر روشن دلیل ہے۔آپ نے ہر مخالفت اور ہر فتنہ کا مقابلہ کمال خندہ پیشانی اور انتہائی صبر واستقامت اور خاص انابت الی اللہ کے ساتھ کیا ، نیز جماعت کو آپ نے ایسے پاکیزہ اور دلنشیں ماٹو عطا فرمائے۔مثلاً ” ہمیشہ مسکراتے رہو محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں“۔جن سے جماعت بفضل خدا ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کے علاوہ خوش خلقی اور پاکیزگی کا پیکر بن گئی اور اشاعت اسلام کے لئے پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کرنا اس کا شیوہ ہو گیا۔آپ کے ساڑھے سولہ سالہ عہدِ خلافت میں کمیت اور کیفیت کے اعتبار سے اتنے عظیم کارنامے منصہ شہود پر آئے جن کی برکات اور تاثیرات کا احاطہ کرناممکن نہیں۔ممالک بیرون میں مشن ہاؤسز، مساجد ، ہسپتال ، تعلیمی اداروں نیز مرکزی مہمان خانوں اور دارالضیافت میں غیر معمولی توسیع ، لنڈن کا نفرنس کی شاندار کامیابی ، پریس کانفرنسوں سے مدلل خطابات رہتی دنیا تک یا در ہیں گے۔آپ نے جو بھی تحریک فرمائی وہ پہلی تحریک سے بڑھ کر کامیابی اور خیر و برکت سے ہمکنار ہوئی۔فضل عمر فاؤنڈیشن ، نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم، صد سالہ احمد یہ جو بلی منصو بہ وجوبلی فنڈ اور عظیم تعلیمی منصوبہ اس کی بہین اور روشن مثالیں ہیں۔یہ تحریکیں نہ صرف جماعت احمد یہ بلکہ عالم اسلام پر احسان کی حیثیت رکھتی ہیں اور ہم غلامانِ خلافت ان احسانات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے اور دردمندانہ طور پر دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضور رحمہ اللہ تعالیٰ کو اعلیٰ علیین میں مقام عطا فرمائے اور ہر آن رفعت درجات سے نوازتا رہے اور ہم اس عزم صمیم کا اظہار کرتے ہیں