تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page iii of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page iii

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُه وَنُصَّلِى عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پیش لفظ انصار اللہ کا نام تاریخ احمدیت میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ بہت ایمان افروز روایات وابستہ ہیں۔مجلس انصاراللہ جماعت کی وہ ذیلی تنظیم ہے جس کی بنیاد حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے ذہین و فہیم اور نابغہ روز گار امام نے رکھی تھی اور پھر اسے اپنے مبارک ہاتھوں سے سینچا۔خلفائے احمدیت کی غیر معمولی راہنمائی اور سر پرستی میں یہ تنظیم ترقی کی منازل کو طے کرتے ہوئے ایک تناور درخت بن چکی ہے اور اب دنیا کے بیسیوں ممالک میں اس کی شاخیں پھیل چکی ہیں۔مجلس شوریٰ انصار اللہ ۱۹۷۲ء میں تاریخ انصار اللہ مرتب کرنے کا فیصلہ ہوا۔اس فیصلہ کی رو سے مجلس نے ۱۹۷۸ ء میں تاریخ انصار اللہ شائع کی جس میں ابتداء سے ۱۹۷۸ء تک کے حالات شامل تھے۔اس کے بعد نومبر ۲۰۰۶ء میں تاریخ انصار اللہ جلد دوم کی طباعت ہوئی اور اس میں سیدنا حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دور صدارت پر مشتمل حالات شامل تھے۔مجلس کو اب خدا تعالیٰ کے فضل سے تاریخ انصار اللہ جلد سوم شائع کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔اس جلد میں ۱۹۹۹ ء تک کے حالات شامل ہیں۔کے ذمہ جولائی ۲۰۰۴ء میں تاریخ مرتب کرنے کی اہم ذمہ داری لگائی گئی تھی۔الحمد للہ ان کے قلم سے پہلے جلد دوم اور اب جلد سوم منظر عام پر آ رہی ہے۔انہوں نے نہایت محنت سے جماعتی اخبارات و رسائل کے علاوہ فائلوں میں دبے ہوئے ریکارڈ کو یکجائی صورت میں جمع کیا اور پھر مسودہ تحریر کیا۔ان کے مسودہ کو خاکسار کی زیر ہدایت نے پڑھا اور مفید مشورے دیئے۔خاکسار نے بھی اس پر نظر ثانی کی ہے اور اب یہ امانت منصہ شہود پر آ رہی ہے۔الحمد للہ علی ذالک۔