تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1
بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعَوْدِ انصار اللہ کا ساتواں دور ۱۱ جون ۱۹۸۲ء تا ۳ نومبر ۱۹۸۹ء صدر مجلس۔۔۔محترم چوہدری حمید اللہ صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دورِ صدارت کے بعد محترم چوہدری حمید اللہ صاحب کے دور صدارت کا آغاز ہوتا ہے۔۱۰ جون ۱۹۸۲ ء کو جب اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کو مسندِ خلافت پر متمکن فرمایا تو حضور انور نے ۱۱ جون ۱۹۸۲ء کو محترم چوہدری حمید اللہ صاحب کو صدر مجلس مرکز یہ مقرر فرمایا۔۳ نومبر ۱۹۸۹ء کے خطبہ جمعہ میں سید نا حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ نے ارشادفرمایا: آج کے اس خطبے کے ذریعے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ سے تمام ممالک کی ذیلی مجالس کے اسی طرح صدران ہوں گے جس طرح پاکستان کی ذیلی مجالس کے صدران ہیں اور وہ اسی طرح براہ راست خلیفہ وقت کو اپنی آخری رپورٹیں بھجوائیں گے جس طرح پاکستان کے صدران اپنی رپورٹیں بھجواتے ہیں“۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا دور صدارت دو ادوار میں منقسم ہے۔اول ، جس میں آپ مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے صدر تھے یعنی ۱۱ جون ۱۹۸۲ء تا ۳ نومبر ۱۹۸۹ء۔دوم جبکہ آپ مجلس انصار اللہ پاکستان کے صدر رہے اور یہ عرصہ ۳ نومبر ۱۹۸۹ء سے ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ ء تک جاری رہا۔اس سے قبل آپ کو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ آپ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے دور صدارت میں بطور نائب صدر ہاتھ بٹا رہے تھے۔علاوہ ازیں آپ کو کئی جماعتی خدمات بجالانے کی توفیق بھی ملتی رہی۔مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب کا دور صدارت تقریباً ساڑھے سترہ سال میں پھیلا ہوا ہے۔یہ طویل دور خدا تعالیٰ کے بے شمار فضلوں اور برکتوں کو سمیٹے ہوئے ہے۔محترم چوہدری صاحب موصوف کا سارا دور صدارت اُس زمانہ پر مشتمل ہے جب ایک طرف دشمن نے جماعت کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا