تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 217 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 217

۲۱۷ اور نیک اولا د چھوڑ کر جانے والے ہوں۔بعد ازاں صدر محترم نے اپنے صدارتی خطاب میں ایفائے عہد کی تلقین کی کہ جو عہد اور اقرار آپ نے بیعت کے وقت کیا تھا، اسے ہر وقت مد نظر رکھیں۔اس ضمن میں آپ نے دس شرائط بیعت میں سے تیسری شرط اور اس کی تفصیل بیان کی کہ نماز با جماعت نماز تہجد ، تلاوت قرآن پاک، استغفار ، حمد الہی اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود شریف پڑھنا روز مرہ کا دستور العمل بنا لیں۔اسی طرح دعوت الی اللہ کے میدان میں ہر انصار بھائی خود بھی داخل ہوا اور اپنے اہل و عیال کو بھی داعی الی اللہ بنانے کی فکر کرے۔دعا کے بعد یہ اجلاس برخاست ہوا۔اس اجلاس میں حاضری انصارا یک سو پانچ ، خدام ایک سو پینسٹھ ، اطفال ایک سو دس یعنی کل تین سو اسی تھی۔اجلاس کے بعد ممبرانِ عاملہ جماعت انصار اللہ و خدام الاحمدیہ کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس میں دعوت الی اللہ کے بارے میں صدر محترم نے مرکزی سیکرٹری صاحب اصلاح وارشاد اور مربی صاحب سے بعض تفاصیل دریافت کیں اور ہدایت فرمائی کہ اصلاح وارشاد کا نظام گا ہے لگا ہے تمام حلقوں کے سیکرٹریان اصلاح وارشاد کا اجلاس کیا کریں۔کام کا جائزہ لیں اور پھر کام کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں۔بعد ازاں آپ نے وقف جدیدا اور تحریک جدید کی پوزیشن دریافت کی۔ضروری ہدایات دیں کہ مالی قربانی کے معیار کو بڑھانے کی ابھی فیصل آبادشہر میں بے حد گنجائش ہے۔دورہ جات مرکزی نمائندگان سال گزشتہ کی طرح اس سال بھی مرکز سے قائدین، علماء کرام اور دیگر نمائندگان کو مجالس میں منظم شکل میں بھجوا کر تربیتی دورہ جات کروائے گئے۔اس کی اجتماعی طور پر بعض مختصر رپورٹ درج کی جاتی ہیں۔جنوری تا جون ۱۹۸۷ء مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے تحت مرکزی قائدین اور علماء سلسلہ نے ماہ جنوری تا جون ۱۹۸۷ء مختلف اضلاع کی تینتالیس مجالس کے دورے کئے۔حاضری بفضلہ تعالیٰ تسلی بخش ہوتی رہی۔ان اجلاسات میں انصار کے علاوہ خدام ، اطفال اور لجنات نے بھی شرکت کی۔دورہ جات کرنے والوں کے نام نیچے درج ہیں۔قائدین کرام اور علماء سلسلہ نے تربیتی امور کے علاوہ دعوت الی اللہ کے کام کو بہتر بنانے اور آگے بڑھانے کے لئے ہدایات دیں۔احباب جماعت کو بیدار رکھنے کی کوشش کی گئی۔ا۔مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب ۲۱ - مکرم ملک منصور احمد عمر صاحب ۲۲ - مکرم عبدالرشید غنی صاحب مکرم مولانا غلام باری صاحب سیف