تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 216
۲۱۶ عہد انصار اللہ کے حوالہ سے نظام خلافت کی حفاظت اور اطاعت کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی۔دوره مجلس اور حمه ضلع سرگودھا مرکزی وفد صدر محترم مجلس مرکز بیه، مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب قائد تحر یک جدید اور مکرم کیپٹن شمیم احمد صاحب وکالت تبشیر پر مشتمل تھا۔روانگی وفدر بوہ سے مورخہ 9 دسمبر ۱۹۸۷ ء ساڑھے تین بجے سہ پہر کو روانہ ہوکر واپس ربوہ ساڑھے دس بجے رات پہنچا۔نماز مغرب کے وقت اس مجلس کا دورہ کیا گیا۔نماز مغرب کے بعد ایک اجلاس عام زیر صدارت صدر محترم ہوا۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد مکرم قائد صاحب تحریک جدید نے دعوت الی اللہ اور تحریک جدید کے موضوع پر خطاب کیا جس میں دعوت الی اللہ کی اہمیت اور اس کے طریق کار نیز تحریک جدید کے میدان میں ملنے والی کامیابیوں اور اس کے نتیجہ میں مالی قربانیوں میں وسعت پیدا کرنے کی تحریک کی۔حاضری کی طرف توجہ دلائی گئی۔نیز یہ بھی کہ مالی قربانی کے معیار کو بلند کریں۔بعد ازاں مکرم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس انصار اللہ مرکزیہ نے خطاب کیا۔جس میں مقام اطاعت پر کھڑا رہنے کی تلقین کی اور عہد کی ضرورت پر زور دیا اور شرائط بیعت کی روشنی میں اس کی اہمیت کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا۔بعد ازاں آپ نے قربانیوں کے میدان میں مالی وسعتوں کے ساتھ حصہ لینے کی تلقین کی۔دعا کے بعد اجلاس برخاست ہوا۔اس اجلاس میں مقامی اطفال، خدام اور انصار کی کل تعداد تینتالیس تھی جو اختتام تک ستر ہو گئی۔اس کے علاوہ مجلس تخت ہزارہ کے چالیس اطفال، خدام اور انصار بھی ایک سپیشل بس کے ذریعہ شریک اجلاس ہوئے۔صدر محترم نے بعض اطفال سے سوالات بھی کئے اور تربیتی امور خصوصاً نماز با جماعت نماز باجماعت پڑھنا اور نما ز سادہ اور روزانہ تلاوت قرآن کریم کی تلقین کی۔دوره مجلس فیصل آباد شهر مرکزی وفد جو مکرم صدر صاحب ،مرکزیہ مکرم ناظر صاحب اصلاح وارشاد مرکز یہ مکرم قائد صاحب تحریک جدید مرکز یہ پر مشتمل تھا۔۱۳ دسمبر ۱۹۸۷ء کو ساڑھے تین بجے بعد دو پہر کو روانہ ہو کر ساڑھے دس بجے رات ربوہ واپس پہنچا۔ہر دو مجالس انصاراللہ فیصل آباد دشہر کا مشترکہ اجلاس عام بعد نماز مغرب وعشاء زیر صدارت مکرم صدر صاحب مرکز یہ ہوا۔تلاوت ، عہد اور نظم کے بعد مکرم مولانا سلطان محمود صاحب انور ناظر اصلاح وارشا د مرکز یہ نے چالیس منٹ خطاب فرمایا۔آپ نے انصار کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی کہ ایک تو خود نمونہ بنیں۔کسی کی دل شکنی نہ کریں۔کسی کو حقیر نہ جائیں۔دوسرے یہ کہ اپنی اس مختصر سی زندگی میں اب جو باقی رہ گئی ہے، پوری تندہی اور محنت کے ساتھ اپنی اولادوں کی تربیت کی ذمہ داری کو ادا کریں تا آپ اپنے پیچھے مبارک