تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 215
۲۱۵ وفات مکرم حسن محمد حجانہ صاحب مکرم حسن محمد جانه صاحب ناظم ضلع ڈیرہ غازیخان یکم نومبر ۱۹۸۷ء کو بقضائے الہی وفات پاگئے۔محمد و دشوری ۱۹۸۷ء یه شوری ۵ ، ۶ نومبر کو منعقد کی جانی قرار پائی۔ہر ضلع سے چند منتخب مجالس کے زعماء کو بھی اطلاع دی گئی۔اطلاع کی غرض سے تین کارکنان دفتر مجلس انصار اللہ کو اضلاع میں بھجوایا گیا چنانچہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ مکرم محمد سلیم جاوید صاحب اکاؤنٹنٹ دفتر انصار اللہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۸۷ ء کور بوہ سے روانہ ہوئے اور ۲۵اکتوبر کو واپس آئے۔اس دورہ میں وہ مندرجہ ذیل اضلاع میں گئے۔جھنگ ، لیہ، ڈیرہ غازیخان، راجن پور، مظفر گڑھ، بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر، وہاڑی، ملتان، خانیوال، ساہیوال، اوکاڑہ، قصور، لاہور اور شیخو پورہ دوسرے پیغام بر مندرجہ ذیل اضلاع میں گئے۔بدین، میر پور خاص، خیر پور، سکھر ، سانگھڑ، کراچی، لاڑکانہ، نواب شاہ،حیدرآباد تیسرے کا رکن مکرم عبدالمجید صاحب انسپکٹر مال جن اضلاع میں گئے۔اُن کی فہرست یہ ہے۔گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ ، جہلم، چکوال، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، ہزارہ، مردان ، اٹک، میانوالی، بھکر، خوشاب، سرگودھا کارروائی محمد و دشوری امسال بھی چونکہ انتظامیہ کی طرف سے سالانہ اجتماع انصار اللہ منعقد کرنے کی اجازت نہ مل سکی تھی۔اس لئے محدود شوری ۵ اور ۶ نومبر کو منعقد کی گئی جس میں اراکین خصوصی ، اراکین مجلس عاملہ مرکزیہ، ناظمین اضلاع، زعماء اعلیٰ اور پچاس زعماء مقام کو شرکت کی دعوت دی گئی۔الحمدللہ حاضری تسلی بخش تھی اور ایک سو پچاس مدعوئین میں سے ایک سو چھپیں احباب شریک ہوئے۔اس موقع پر دو اجلاس منعقد ہوئے۔پہلا اجلاس ۵ نومبر بعد نماز عشاء شروع ہوا جس میں قائدین مجلس عاملہ مرکزیہ نے ناظمین اضلاع اور مجالس کی کارگزاری کا تجزیہ پیش کیا اور کام کو مزید بہتر کرنے کے لئے ہدایات دیں۔صدر محترم نے اپنے خطاب میں شرائط بیعت کو سامنے رکھتے ہوئے ہدایات دیں۔یہ اجلاس رات گیارہ بجے تک جاری رہا۔دوسرا اجلاس ۶ نومبر کو صبح نو بجے شروع ہوا۔اس اجلاس میں گیارہ بجے تک تجاویز شوری و بجٹ برائے سال ۱۳۶۷ھش / ۱۹۸۸ ء زیر غور آئے۔گیارہ بجے کے بعد ان قائدین مرکزیہ کی طرف سے جائزہ پیش کیا گیا جو ۵ نومبر کے اجلاس میں پیش نہیں کر سکے تھے۔قائدین نے ہدایات بھی دیں۔اجلاس ختم ہونے سے قبل صدر محترم نے اپنے خطاب میں