تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 189
۱۸۹ اجلاس عام بعد نماز مغرب ساہیوال حاضری خدام، اطفال، اور انصار کل پینتالیس تھی۔اجلاس زعماء مجالس ضلع ساہیوال: نماز ظہر تا نماز عصر۔حاضری زعماء مجالس سا تھی۔ان تمام اجلاسات میں صدر محترم نے خطاب کیا اور ضروری ہدایات دیں جن کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔عاملہ کو وسیع کریں۔آپ کا شمار تو بڑی مجالس میں سے ہے۔احساس اجتماعیت پیدا کریں۔پوری عاملہ بنائیں تعلیم اور تربیت کو الگ الگ کریں اس طرح تمام شعبہ جات کو الگ الگ کر دیں۔بوجھ بانٹ لیں۔تجنید میں کمزوری پائی جاتی ہے۔جماعت کا کمزور حصہ تجنید میں آنے سے رہ جاتا ہے کوشش کر کے تلاش کریں اور احمدیوں کو تجنید میں شامل کریں۔بجٹ کا فکر نہ کریں۔اس خوف کے بغیر کہ چندہ دیتے ہیں کہ نہیں، سب کو شامل کریں۔یہ بھی پتہ ہو کہ ہر گھر میں تعداد کتنی ہے یہ مردم شماری تحریک جدید تعلیم اور تربیت میں کام آئے گی۔نماز اور قرآن دونوں کے بارہ میں کام آسان ہو جائے گا۔ہر ناصر کی ذمہ داری ہے کہ گھر میں رہنے والے تمام افراد کے متعلق ذمہ داری نبھائے۔لہذا ہر احمدی گھرانے کے اعداد و شمار حاصل کریں۔جو عہدہ دار مقرر کئے گئے ہیں وہ انفرادی رابطہ کے ذریعہ توجہ دلائیں۔موجودہ حالات باعث پریشانی ہیں۔رابطہ کے ذریعے حوصلہ دلائیں۔ہمتوں کو بلند کریں اور یہ کام ملاقات اور انفرادی رابطہ کے ذریعہ ہی ہوگا۔اگر یہ نہ ہو تو لوگ مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔رپورٹ باقاعدہ بھجوائیں۔حاضری نماز کا جائزہ بمقابلہ تجنید مرکز میں بھجوائیں۔اطفال کی حاضری کم ہوتی ہے اس طرف خاص توجہ دیں تا اس وقت چھوٹی عمر میں نماز کی عادت پڑ جائے۔بڑے اپنے چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر آئیں۔اس پر بہت زور دیں۔اگر مراکز۔بڑ۔نماز اور مساجد آباد ہوگئیں تو ہمارے سارے کام ہو جا ئیں گے۔تعلیم : کتب کا جائزہ لیں۔کتنی کتب کی ضرورت ہے۔پھر وہ خریدیں۔ہر شعبہ میں زور دیں ،لوگوں کو تسلی دیں، حوصلے بلند کریں، وقف جدید اور تحریک جدید کی طرف توجہ دلائیں، کیسٹس کا کیا انتظام ہے۔پتہ لگا ئیں کہ کیسٹس کی تقسیم کا انتظام تسلی بخش ہے۔گھروں میں سنی جاتی ہیں اطفال اور عورتیں بھی سنتی ہیں ایک کیسٹ ہفتہ میں ضرور سن لی جائے ورنہ پھر اگلے ہفتے کی بھی اکٹھی ہو جائیں گی۔ناظم صاحب ضلع بھی مرکز سے ملنے والی کیسٹس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا ئیں اور دوسروں کو پہنچا ئیں۔حضور سے رابطہ کو مضبوط رکھیں۔خطوط لکھیں بے شک ڈاک اکٹھی بھجوائیں لیکن تعلق میں غفلت اور سستی نہیں ہونی چاہیئے۔توجہ دلاتے رہیں حضور کو جتنا پاکستان کی جماعتوں کا اور آپ کا فکر ہے کسی اور کا نہیں۔اصلاح وارشاد کے بارہ میں دوباتوں کی طرف توجہ دیں ہر رکن ذاتی تبلیغ کے لئے کچھ آدمی چنے اور پھر نگرانی ہو کہ کون کون کتنے کتنے آدمیوں کو تبلیغ کرتا ہے۔کچھ کام اجتماعی رنگ میں ہو یعنی سوال و جواب کا سلسلہ شروع کیا جائے جو چھوٹے پیمانے پر ہو۔دوسرے اضلاع میں یہ کام شروع ہو چکا ہے اس سے بیداری بھی ہوگی ، جذ بہ زندہ بھی رہے گا اور اس کی مزید نشو و نما بھی ہوگی۔شرفاء کو بلائیں۔شریر عنصر کو نہ