تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 172
۱۷۲ ہوتی ہے۔انصار اللہ کے ناظم اعلیٰ کا انتخاب ہوتا ہے اور خدام الاحمدیہ کے نیشنل قائد کی نامزدگی ۲- ذیلی تنظیموں پر امیر کی عمومی نگرانی ہو۔ذیلی تنظیموں کو چونکہ اُن کے پروگرام اُن کی مرکزی مجالس بھجواتی ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ ذیلی تنظیمیں اپنے پروگراموں کے سلسلہ میں امیر کو مطلع رکھیں تا امیر باخبر بھی رہے اور جماعتی پروگراموں کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت بھی پیدا نہ ہو۔-۴- اگر امیرکسی وقت یہ محسوس کرے کہ کوئی امر جماعت کے مجموعی مفاد کے خلاف ہے تو ذیلی تنظیموں کو اس سے حکماً روک دے۔اس بارہ میں صدر انجمن احمدیہ کا قاعدہ نمبر ۳۳۱ حسب ذیل ہے۔اسی کے مطابق بیرونی ممالک میں بھی عمل ہو۔اُن امور میں جو جماعت کے مجموعی یا عمومی مفاد پر اثر انداز ہو سکتے ہوں۔مقامی امیر کو مقامی انصار اللہ ، خدام الاحمدیہ اور لجنہ اماء اللہ کو حکم دینے کا اختیار ہو گا جو تحریری ہونا چاہئیے اور ان مذکورہ بالا مجالس کو حق ہو گا کہ اگر وہ حکم کو نا واجب سمجھتے ہوں تو اپنی مرکزی مجلس کی معرفت صدرانجمن ( تحریک جدید ) کو توجہ دلائیں۔“ اگر حضور اید کم اللہ تعالیٰ یہ سفارشات منظور فرمالیں تو پھر ہماری رائے میں نائب صدر ملک کا عہدہ باقی رکھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔اس لئے بہتر ہے کہ اس عہدہ کوختم کر دیا جائے اور نیشنل قائد خدام الاحمدیہ، ناظم اعلی انصار اللہ اور نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ کا عہدہ برقرار رہنے دیا جائے اور ذیلی تنظیموں کے نظام کو اسی رنگ میں چلانے کی اسی رنگ میں چلانے کی کوشش کی جائے جس طرح پاکستان میں چلایا جا رہا ہے۔جہاں تک لجنہ اماءاللہ کا تعلق ہے۔اس بارہ میں امیر کو کچھ زیادہ اختیارات دینے کی ضرورت ہوگی کیونکہ لجنہ کے موجودہ نظام میں مبلغ انچا رج لجنہ کے لئے بطور تقسیم کام کرتا ہے اور اُس کی رائے اور مشورہ کے مطابق لجنہ اماءاللہ مرکز یہ فیصلہ کرتی ہے۔لجنہ اماءاللہ کے دستور میں قاعدہ نمبر ۱۲ اسی طرح ہے۔بیرون پاکستان صدر لجنہ منتخب ہو جانے کے باوجود آخری فیصلہ قیم کا ہو گا۔ہر ملک کے امام وہاں کی لجنات کے لئے بطور قیم بھی ہیں۔اسی طرح پاکستان میں صدر کی منظوری امیر جماعت مقامی سے تصدیق کروا کے لجنہ مرکز یہ دے گی۔بیرون پاکستان کی مدت کا تعین حسب حالات اس ملک کے مبلغ کی رائے پر ہو گا۔عموماً تین سال کے لئے ہو۔لیکن جہاں کوئی مبلغ یہ رائے رکھتا ہو کہ ہر سال کروایا جائے ، وہاں اس کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوگا۔“