تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 148
۱۴۸ ہے۔انالله و انا اليه راجعون۔اس وجہ سے اجتماع غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کیا جاتا ہے۔احباب یہ دن تسبیح وتحمید، ذکر الہی ، درود شریف کے درد اور دعاؤں میں گزاریں۔سالانہ اجتماعات کا التواء قائد عمومی مجلس انصاراللہ مرکز یہ ربوہ“ ۱۹۸۴ کے بدنام زمانہ آرڈینینس کے نفاذ کے بعد مجلس انصاراللہ مرکز یہ اجتماعات کے انعقاد کے لئے با قاعدہ حکومت کو درخواست دیتی رہی مگر اس کے بعد کسی بھی سال اجتماع کے انعقاد کی اجازت نہیں مل سکی۔مجلس کی طرف سے ہر سال درخواست حکومت وقت کو دی جا رہی ہے۔پہلے دو تین سال تو تحریری طور پر انکار ملتا رہا اس کے بعد درخواست کا جواب دینا ہی مناسب نہیں سمجھا گیا۔محدود شوری کا آغاز ہر سال سالانہ اجتماع کے موقعہ پر ایک یا دو دن کے لئے مجلس شوری منعقد ہوتی رہی۔۱۹۸۳ء کے اجتماع تک اس طریق پر عمل ہوتا رہا۔۱۹۸۴ء سے ملکی حالات کی بناء پر اجتماعات کے نہ ہو سکنے کے سبب اسے جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔اس خلا کو کسی حد تک پورا کرنے کے لئے حضرت خلیفتہ المسیح الرابع کی منظوری سے مرکز میں ۱۹۸۵ء سے محمد ود شوری منعقد کی جاتی رہی۔ابتداء اس میں مرکزی قائدین کے علاوہ ناظمین اضلاع و علاقہ اور چند زعمائے اعلیٰ کو شمولیت کی دعوت دی جاتی تھی تاہم بعد میں بیس سے زائد انصار رکھنے والی مجالس کے زعماء کو بھی شامل کر لیا گیا۔اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عہد یداران کا اجلاس بھی منعقد کیا جاتا رہا جس میں صدر مجلس اور مرکزی عاملہ ہدایات دیتے رہے۔محدود شوری کا آغاز کس طرح ہوا؟ اس امر کی وضاحت صدر محترم کے اُس خط سے ہوتی ہے جو آپ نے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت بابرکت میں ۹ نومبر ۱۹۸۵ء کو تحریر کیا۔آپ نے لکھا: د و بسم اللہ الرحمن الرحیم سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۱۹۸۴ء کے سالانہ اجتماع کے موقع پر آئندہ تین سال کے لئے مجلس انصاراللہ کے صدر کا انتخاب ہونا تھا۔سالانہ اجتماع نہ ہو سکنے کی وجہ سے انتخاب نہ ہو سکا اور حضور اید کم اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ خاکسار مزید ایک سال بطور صدر کام کرے۔امسال بھی اجتماع نہ ہو سکنے کی وجہ سے شوری منعقد نہ ہوسکی اور صدر اور نائب صدر صف دوم کا انتخاب نہیں ہو سکا۔حضور کے زبانی ارشاد کی روشنی میں تجویز ہے کہ مجلس انصار اللہ کو