تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 99
۹۹ کے اتفاق کی پیش کرتا ہوں جن کو مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى کی جانب سے یہ سند عطا ہوئی۔مجھے ابو بکر کے مال سے جو فائدہ پہنچا وہ کسی اور کے مال سے نہیں پہنچا۔حضرت عمر گھر گئے تو آدھا مال کپڑے میں باندھ کر حضور کے قدموں میں رکھ دیا۔حضرت عثمان غنی کی مالی قربانی کے موقع پر جو آپ نے غزوہ تبوک میں کی ( جسے جیش العسرۃ بھی کہا گیا ہے کہ یہ دن بڑی سختی کے تھے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عثمان کے اس فعل پر راضی ہو گیا اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ عثمان جنت کے مستحق ہو گئے۔اس موقع پر آپ نے نو سو پچاس اونٹ، پچاس گھوڑے لشکر کے لئے دیئے اور ایک ہزار دینار نقد پیش کئے۔چوتھے راشد اور زاہد خلیفہ حضرت علی کے انفاق فی سبیل اللہ کا کچھ ذکر سماعت فرمائیے۔آپ کی معیشت بہت سادہ تھی۔پانچ درہم کا تہبند زیب کمر ہوتا۔ایک روایت کے مطابق ان کی انفاق فی سبیل اللہ کی مقدار کئی ہزار درہم تھی۔جب آپ کا وصال ہوا آپ کے پاس صرف چھ سو درہم تھے۔حضرت ابوطلحہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ میرا ایک باغ ہے اُس میں میٹھے پانی کا کنواں بھی ہے ، ہمیں اسے راہ خدا میں دیتا ہوں۔یہ مسجد نبوی کے سامنے تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اس میں تشریف لے جاتے۔ابوطلحہ کے اس انفاق پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابوطلحہ بڑا نفع مند سودا تو نے کیا۔(۴۴۳ نمائندہ امریکہ کا خطاب مکرم عابد حنیف صاحب نمائندہ امریکہ نے انگریزی میں خطاب کیا جس کا ملخص پیش ہے: سب سے پہلے مجھے اس بات پر مسرت کا اظہار کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس اجتماع میں شرکت کی سعادت عطا فرمائی۔الحمد للہ۔۱۹۴۷ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے چند نوجوان مبلغ امریکہ بھجوائے۔ان کی تبلیغ سے ۱۹۴۸ء میں مجھے حق قبول کرنے کی توفیق ملی۔قبول دین کی تقریب یوں پیدا ہوئی کہ نیو یارک کے مربی مکرم چوہدری غلام یسین صاحب نے رمضان کے مہینہ میں ایک جلسہ کا اہتمام کیا۔اتفاق سے میں بھی وہاں موجود تھا۔مجھ پر قرآن کریم کی تلاوت نے بے حد اثر کیا۔اسی موقعہ پر مجھے ایک کتاب "WHERE DID JESUS DIE" مصنفہ حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس مطالعہ کے لئے دی گئی۔اس کتاب کے پڑھنے پر میرے خیالات کی کایا پلٹ گئی اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر فی الواقعہ حضرت مسیح ناصرئی فوت ہو گئے ہیں تو پھر مجھے اپنی ساری زندگی اور سارے عقائد تبدیل کرنا ہوں گے۔بالآخر میں نے دین حق قبول کر لیا۔بوسٹن میں ہم نے ایک قطعہ زمین خریدا ہے اور اب وہاں بیت بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔بوسٹن