تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 100 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 100

میں ایک گلی کا نام حضرت خلیفہ المسیح الثالث کے نام پر مرزا ناصر احمد سٹریٹ رکھا گیا ہے۔آپ نے آخر میں امریکہ کی جماعت کی روز افزوں ترقی کے لئے حاضرین سے درخواست دعا کی۔اختتامی اجلاس سید نا حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی سالانہ اجتماع کے اختتامی اجلاس میں ۳۰ اکتو بر ۱۹۸۳ء کوسوا گیارہ بجے دن تشریف لائے۔حضور کی آمد پر صدر مجلس محترم چوہدری حمید اللہ صاحب اور مجلس عاملہ کے ارکان نے حضور کا استقبال کرنے کی سعادت حاصل کی۔حضور کی آمد پر سٹیج سے مندرجہ ذیل نعرے بلند کئے گئے۔اهلاً و سهلاً و مرحبا - نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔حضرت خاتم الانبیا ء زند و باد۔اسلام زندہ باد۔حضرت مرزا غلام احمد کی ہے۔انسانیت زنده باد خلافت احمد یہ زندہ باد حضرت خلیفہ اسیح الرابع زندہ باد۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔نعروں کے دوران حضور بھی اور دیگر احباب کرام بھی کھڑے رہے اس کے بعد حضور السلام علیکم کہہ کر تشریف فرما ہوئے۔تلاوت قرآن کریم سے با قاعدہ کارروائی کا آغاز ہوا جو مکرم لئیق احمد صاحب طاہر نے کی۔اس کے بعد محترم چوہدری شبیر احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کلام ترنم سے پڑھا۔دوسری نظم محترم ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ لاہور نے پڑھی۔انہوں نے اپنا تازہ کلام پیش کیا جس کے دوران بار با را حباب نعرہ ہائے تکبیر بلند کرتے رہے۔ان کا یہ شعر خاص طور پر بہت پسند کیا گیا۔اک موج بہا لے جائے گی سب ریت پہ لکھی تحریریں اس مالک کے ہاں دیر تو ہے اندھیر نہیں وقت آنے دو بعدۂ حضوراقدس نے انعامات تقسیم فرمائے۔مقابلہ حسن کا ر کر دگی اضلاع میں ضلع فیصل آباد اول ( ناظم ضلع مکرم میاں مبارک احمد صاحب) دوم ضلع کراچی (ناظم ضلع مکرم نعیم احمد خاں صاحب) اور سوم ضلع لاہور (ناظم ضلع مکرم ملک عبداللطیف ستکو ہی صاحب ) رہا۔اس کے بعد حضور نے دیگر انعامات تقسیم فرمائے۔انعام لینے والوں میں قابل ذکر پچہتر سالہ بزرگ مکرم شیخ سراج الدین صاحب تھے جو فیصل آباد سے ربوہ سائیکل پر آئے۔اسی طرح حضور نے ایک باہمت معذور دوست کو بھی خصوصی انعام دیا جو ایک ٹانگ سے محروم ہونے کے باوجود سائیکل چلا کر تر گڑی سے ربوہ پہنچے۔" حضرت خلیفۃ اسیح الرابع " کا خطاب تقسیم انعامات کی تقریب کے بعد حضور اقدس نے اپنا روح پرور اختتامی خطاب شروع فرمایا۔تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پیارے ماحول میں اللہ اور اس کے رسول کی باتیں