تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 1042 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 1042

۱۰۴۲ کی پشت پر اب بعض بڑی بڑی دُنیاوی طاقتیں کام کر رہی ہیں۔اُن کی پوری کوشش ہو گی کہ جب آپ اسلام کی دشمن طاقتوں سے نبرد آزما ہوں تو جہاں تک ممکن ہو یہ آپ کی پیٹھ پر چھرا گھونپ دیں۔پس آپ کو ہر سمت میں خدا کے نام پر جہاد کے لئے تیار ہونا چاہئے اور اپنی ترقی کی رفتار کو اتنا بڑھا دینا چاہئے کہ آپ کے مخالف گلیہ مایوس ہو جائیں اور اسلام کا غلبہ صبح صادق کی طرح جلد تر سارے سیرالیون کو اپنی نورانی لپیٹ میں لے لے۔کامیاب مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ دعا گو ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے والا ہو۔ورنہ اس کے قول میں کوئی برکت نہیں پڑتی۔اس لئے اپنے نفس کی تربیت کی طرف بھی توجہ کریں اور تعلق باللہ بڑھائیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا رشتہ باندھیں اور دعاؤں اور حوصلے کے ساتھ کام لیتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں : تمہارا کام اب یہ ہونا چاہئے کہ دعاؤں اور استغفار اور عبادت الہی اور تزکیہ وتصفیه نفس میں مشغول ہو جاؤ۔اس طرح اپنے تئیں مستحق بناؤ، خدا تعالیٰ کی ان عنایات اور تو جہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ خدا تعالیٰ کے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے اور پیشگوئیاں ہیں جن کی نسبت یقین ہے کہ وہ پوری ہوں گی۔﴿۳﴾ پھر حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ تم خوش ہوا اور خوشی سے اچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکنیت تم پر اترے گی اور روح القدس سے مدددیے جاؤ گے اور خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہوگا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو۔گالیاں سنو اور چپ رہو۔ماریں کھاؤ اور صبر کرو اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پر ہیز کرو تا آسمان پر تمہاری مقبولیت لکھی جاوے۔یقینا یا د رکھو کہ جولوگ خدا سے ڈرتے ہیں اور دل اُن کے خدا کے خوف سے پکھل جاتے ہیں، انہیں کے ساتھ خدا ہوتا ہے اور وہ ان کے دشمنوں کا دشمن ہو جاتا ہے۔دنیا صادق کو نہیں دیکھتی پر خدا جو علیم وخبیر ہے وہ صادق کو دیکھ لیتا ہے پس اپنے ہاتھ سے اس کو بچاتا ہے۔کیا وہ شخص جو سچے دل سے تم سے پیار کرتا ہے اور سچ سچ تمہارے لئے مرنے کو بھی تیار ہوتا ہے اور تمہارے منشاء کے موافق تمہاری اطاعت کرتا ہے اور تمہارے لئے سب کو چھوڑتا ہے، کیا تم اس سے پیار نہیں کرتے ؟ اور کیا تم اس کو سب سے عزیز نہیں سمجھتے ؟ پس جبکہ تم انسان ہو کر پیار کے بدلہ میں پیار کرتے ہو۔پھر کیونکر خدا نہیں کرے گا۔خدا خوب جانتا ہے کہ واقعی اس کا وفا دار دوست کون ہے اور