تاریخ انصاراللہ (جلد 3)

by Other Authors

Page 999 of 1118

تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 999

۹۹۹ کی معافی مانگنے اور استغفار کرنے میں مداومت اختیار کرے گا اور دلی محبت سے خدا تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو اپنا ہر روزہ ورد بنائے گا۔“ اس شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے احباب جماعت کو پانچ باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔(۱) پنج وقتہ نماز کی ادائیگی (۲) حتی الوسع نماز تہجد کی ادائیگی (۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر باقاعدگی سے روزانہ درود بھیجنا (۴) با قاعدگی سے روزانہ استغفار کرنا (۵) با قاعدگی سے روزانہ تسبیح وتحمید کرنا میں اُمید کرتا ہوں کہ مغربی جرمنی کے انصار نہ صرف ان پانچ باتوں پر خود عمل کریں گے بلکہ اس بات کی بھی کوشش کریں گے کہ ان کے اہل و عیال بھی ان پانچ باتوں کے پابند ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اس بات کی توفیق عطا فرمائے۔“ بنگلہ دیش مکرم مولوی عبید الرحمن بھو یا صاحب ناظم اعلیٰ بنگلہ دیش ۱۹۸۱ء کے مرکزی سالانہ اجتماع ربوہ میں بطورنمائندہ شامل ہوئے۔۱۹۸۱ء میں اُنیس مجالس کے بجٹ تشخیص ہوئے۔مجلس عاملہ کا تقرر کیا گیا۔با قاعدگی سے کارکردگی کی رپورٹ مرکز میں بھجوائی جاتی رہی۔مجالس کو بیدار کرنے میں نمایاں کام ہوا۔۱۹۸۵ء میں ہیں مجالس کے انتخابات مکمل کر کے مرکز سے منظوری حاصل کی گئی۔مکرم ڈاکٹر عبدالصمد چوہدری صاحب ۱۹۸۵ء سے ۱۹۸۹ ء تک ناظم اعلیٰ رہے۔تبلیغی نشست مجلس چٹا گانگ انجمن احمد یہ میں ۲۱ مئی ۱۹۸۳ء کو دعوت الی اللہ کی ایک نشست منعقد کی گئی جس میں پینتالیس غیر از جماعت دوست مدعو تھے۔جماعت کے احباب اس کے علاوہ تھے۔یہ نشست ساڑھے پانچ بجے شام تلاوت قرآن مجید سے شروع ہوئی جو مکرم بقیت اللہ صاحب نے کی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نظم کے بعد مکرم غلام احمد صاحب امیر جماعت چٹا گانگ نے احمدیت کے بارے میں ایک پُر از معلومات اور ایمان افروز تقریر فرمائی جس میں جماعت احمدیہ کے عقائد پر روشنی ڈالی اور دعوت الی اللہ کے تحت جماعت کی بین الا قوامی مساعی کا ذکر کیا۔خاص طور پر سپین میں سات سو سال بعد مسجد بنانے کے عظیم فضل کا ذکر فر مایا۔مکرم مصلح الدین خادم صاحب زعیم اعلیٰ چٹا گانگ نے مختصر تقریر میں جماعت کے ذریعہ مذہبی اور روحانی دنیا میں پیدا ہونے والے عظیم انقلاب کی تفصیل بیان کی۔آخر پر احباب کی خدمت میں چائے پیش کی گئی۔بعد نماز مغرب مسجد بشارت سپین کی افتتاحی کا رروائی کی کیسٹ وی سی آر کے ذریعہ ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔۳۷ )