تاریخ انصاراللہ (جلد 3) — Page 994
۹۹۴ -3 -5 -6 -7 کولون ریجن مکرم خلیق احمد بسراء صاحب مکرم منیر احمد صدیقی صاحب منتظم تعلیم منتظم مال مکرم مبشر احمد سیال صاحب منتظم ایثار و قربانی و قلمی دوستی مکرم عبدالکبر یا صاحب منتظم تجنيد منتظم اصلاح وارشادہ منتظم صحت جسمانی کی ذمہ داریاں زعیم اعلیٰ فرینکفرٹ خود ادا کرتے اُس وقت فرنکفرٹ ریجن میں انصار کی کل تعداد ایک سو چھپن تھی اگر چہ کولون میں ۱۹۸۳ء میں زعیم اعلیٰ مقرر ہو چکے تھے لیکن کار کردگی کے بارہ میں ریکارڈ کچھ ظاہر نہیں کرتا۔دسمبر ۱۹۸۷ء میں مکرم عبدالوحید ظفر رانا صاحب زعیم اعلیٰ کولون منتخب ہوئے۔اس دوران تیرہ مجالس قائم ہوئیں۔اس وقت تک ریجن میں کل انصار چھیالیس تھے جن کی تجنید مکمل کی گئی۔اس کے علاوہ بچوں کی تربیتی کلاسز منعقد ہوئیں اور تربیتی و تبلیغی سٹالز لگائے گئے۔گجراتی زبان میں ترجمہ قرآن کریم کے لئے مرکز کی طرف سے انصار اللہ مغربی جرمنی کے ذمہ دس ہزار مارک کی رقم لگائی گئی تھی جس میں سے کولون ریجن کا وعدہ تین ہزار دس مارک تھا جو پورا کر لیا گیا۔مجلس انصار اللہ مغربی جرمنی کے سالانہ اجتماع منعقدہ ستمبر ۱۹۸۸ء کے موقع پر کارکردگی کے لحاظ سے مجلس کو لون اول قرار پائی۔مجلس عاملہ کولون ریجن ۱- مکرم میجر عبدالوحید ظفر رانا صاحب تعلیم وتربیت تجنید۔ذھانت صحت جسمانی۔ایثار معتمد اصلاح و ارشاد ۲- مکرم را نا محمد خان صاحب ۳- مکرم محمد یعقوب خان صاحب معتمد مال تحریک جدید ، وقف جدید ہمبرگ ریجن ہمبرگ ریجن میں مجلس انصار اللہ کا قیام اگر چہ ۱۹۷۷ء میں عمل میں لایا جا چکا تھا مگر انتخابات کے نتیجہ میں یہاں زعماء کی تبدیلیاں ہوتی رہیں۔۱۹۸۱ ء کے انتخابات میں مکرم ملک شریف احمد صاحب زعیم اعلیٰ مقرر ہوئے انہوں نے مکرم مرزا منصور احمد صاحب سے چارج لیا۔ہمبرگ ریجن میں اُس وقت تک انصار کی کل تعدا د اٹھا ئیں تھی۔ہر ماہ باقاعدگی سے تبلیغی اسٹالز لگائے جاتے رہے۔انصار اللہ کی طرف سے مراکز نماز قائم کئے گئے۔تبلیغی نشستوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔گجراتی ترجمۃ القرآن فنڈ کا وعدہ ایک ہزار پینسٹھ مارک تھا۔برلن ریجن برلن ریجن میں مجلس انصار اللہ کا قیام جنوری ۱۹۸۷ء میں عمل میں لایا گیا اور مکرم نذرمحمد خالد صاحب