تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 421
۴۲۱ جاگ کر کاٹتے ہیں۔بحیثیت مجموعی انصار اس اہل ساعت کے قریب تر پہنچ چکے ہوتے ہیں جس کے آنے پر اچانک عمل کی صف پیٹی جاتی ہے اور حساب کتاب کا باب کھلتا ہے۔پس اس ساعت کے قرب سے قوت عمل کو انگیخت ملنی چاہیئے نہ کہ خواب غفلت کا پیغام۔انصار اللہ کے تین بنیادی کام ہیں جن کی طرف ٹھوس توجہ دینے سے باقی سب شعبوں کو بھی از خود تقویت ملتی رہے گی۔تربیت تعلیم اور تبلیغ۔تربیت میں سب سے اہم نماز با جماعت کا قیام ہے۔اسلامی جہاد کے میدان میں مغربی محاذ پر ہمیں سب سے زیادہ زک اسی شعبہ میں اٹھانی پڑی ہے۔مخالفانہ تمدنی اور تہذیبی فضا، مساجد کی کمی، اوقات کار کی ایسی تقسیم جس میں بظاہر عبادات کی طرف سے توجہ کا رخ ہٹانے والے ہیں۔علاوہ ازیں نئی نسلوں کے لئے علمی اور عملی تربیت کے مواقع کی کمی۔یہ تمام باتیں ایسی ہیں جو نماز با جماعت کے قیام کی راہ رو کے کھڑی ہیں۔پس ضرورت ہے کہ سب سے زیادہ ٹھوس جوابی حملہ اسی محاذ پر کیا جائے اور مجالس انصار اللہ اپنے اجلاسات اور اجتماعات میں اپنے ایجنڈے پر اس موضوع کو لے کر مستقل جگہ دیں۔سر جوڑ کر بیٹھیں اور غور کرتے رہیں کہ کس طرح عبادت کے جھنڈے کو اس ملک میں بلند رکھنا ہے؟ مفید تجاویز پر عملدرآمد کا انتظام کریں۔مستقل نگرانی رکھیں اور ماہ بماہ جائزہ لیتے رہیں کہ گزشتہ ماہ کے مقابل پر آپ کچھ آگے بڑھ بھی سکے ہیں کہ نہیں۔یادرکھیں کہ اس ضمن میں جو رپورٹیں آپ مرکز کو ارسال فرمائیں، ان میں ٹھوس اعداد و شمار دئیے جائیں کہ گزشتہ سال کے مقابل پر کیا ٹھوس ترقی ہوئی۔محض مضمون نگاری جو اعداد و شمار سے خالی ہو، نہ تو آپ کے کام آئے گی نہ مرکز کے۔تعلیم میں سب سے زیادہ ضروری قرآن کریم کا مطالعہ ہے اور ضروری ہے کہ ہر احمدی قرآن کریم کو تر جمہ کے ساتھ پڑھے اور حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ کی اس بابرکت تحریک پر ہرممکن عمل کیا جائے کہ ہر احمدی گھرانے میں تفسیر صغیر موجود ہو اور گھر کا ہر فرد اس کی مدد سے قرآن کریم کا ترجمہ سیکھے۔رمضان المبارک قریب ہے اس سے پہلے انصار یہ انتظام مکمل کر لیں تا کہ رمضان کے بابرکت ماہ میں تعلیم کے اس بنیادی پروگرام پر بھر پور عمل کہا جاسکے۔تبلیغ کے متعلق میرا یہ تکلیف دہ تاثر ہے کہ ہماری اکثریت اس اہم فریضہ جہاد سے غافل ہو چکی ہے جس کا شدید نقصان جماعت کے ہر شعبہ کو پہنچ رہا ہے۔ایسا منصوبہ بنائیں اور منصوبہ پر عملدرآمد کے ایسے ٹھوس مستقل تنظیمی ذرائع اختیار فرما ئیں کہ آئندہ چند سالوں کے عرصہ میں ہر ممبر مجلس انصاراللہ ایک کامیاب مبلغ بن چکا ہو اور ہر سال کم از کم ایک غیر مسلم کو مسلم بنانے کی یا نام کے مسلمان کو حقیقی مسلمان بنانے کی توفیق پاسکے۔یہ کوئی ناممکن بات نہیں جس نے بھی خلوص نیت کے ساتھ یہ عہد باندھا