تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 229
۲۲۹ جہاں بہت تھوڑے خدام نہیں کافی ہیں، وہاں وہ اکٹھے ہوں۔وہاں میروڈ بہ کھیلیں، گلی ڈنڈا کھیلیں، ایک بڑی اچھی ورزش ہے بہت ہی اچھی، جو انڈونیشین سٹوڈنٹس (جب میں پڑھا کرتا تھا ) مدرسہ احمدیہ میں لے آئے تھے اور میں بھی وہاں ان کے ساتھ کھیلتا رہا ہوں۔وہ کھیل بڑا چوکس دماغ رکھ کے کھیلنی پڑتی ہے، وہ خدام الاحمدیہ کو سکھانے کے لئے یہاں سے گاؤں گاؤں لوگ بھیج دیں گے۔یہ بڑی معصوم کھیل ہے، کوئی چیز نہیں چاہیئے۔بس زمین چاہیئے اور ایک چھوٹی سی سوٹی چاہیئے لکیریں ڈالنے کے لئے اور اپنے ہاتھ چاہئیں اور دماغ۔اور بڑی ورزش ہو جاتی ہے۔دوڑیں، چلیں ، ہر روز ورزش کریں۔صحت کے لئے متوازن غذا بھی ، بیلنسڈ ڈائٹ (BALANCED DIET) بھی چاہئے اور اس کا ہضم کرنا بھی ضروری ہے۔ورنہ بنیوں کی طرح اتنا بڑا پیٹ سارے جسم سے بھی بڑ انکل آتا ہے۔وہ ٹھیک نہیں ہے۔انصار کے لئے بہترین ورزش سیر کرنا ہے اور انصار جو ہیں جو بڑی عمر کے انصار ہیں۔انصار کے دو حصے ہیں عمر کے لحاظ سے بھی اور صحت کے لحاظ سے بھی۔جو صحت اور عمر کے لحاظ سے بڑی عمر کے ہیں ،ان کے لئے بہترین ورزش سیر کرنا ہے۔ان کو اور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔وہ چار پانچ میں سیر کیا کریں صبح۔نماز پڑھیں، قرآن کریم کی تلاوت کریں اور گرمیوں میں ٹھنڈے ٹھنڈے اور سردیوں میں بگل مار کے سیر کو نکل جائیں اور چند میل سیر کریں۔روزانہ کریں چھوڑ نا نہیں اس کو۔اس ورزش کے متعلق آپ انصار نے توجہ دینی ہے اور خدام الاحمدیہ نے بھی آپ کو پکڑنا ہے۔اصل عزت خدا کے لئے ہے میں نے اعلان کیا تھا کہ جسمانی لحاظ سے جماعت احمدیہ کے افراد کو دنیا میں سب سے زیادہ صحت مند ہونا چاہئے اور اپنی اس صحت کو دنیا کے مفاد میں خرچ کرنے والا ہونا چاہئے۔تو ہم خادم ہیں۔یہ جو دنیوی عزتیں ہیں جن کے تماشے آپ روز دیکھتے ہیں اس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمارے سہارے کے لئے بڑا عجیب اعلان کر دیا تھا۔فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلهِ جَمِيعًا ( النساء آیت: ۱۴۰) صحیح عزت، ہر قسم کی عزت ، ساری کی ساری عزت اللہ تعالیٰ کی ہے۔اس سے آپ لیں۔بڑی عزت دیتا ہے۔ہمارا ایک مبلغ عام سے آدمی کے طور پر یہاں پھر رہا ہوتا ہے۔آپ کے سامنے سے گزرتا ہے۔آپ اس کی قدر ہی نہیں پہچان رہے ہوتے۔جب وہ افریقہ میں جاتا ہے اور وہاں صدر مملکت سے دفتر میں ملنے جاتا ہے تو وہ اس کے لئے کھڑا ہو جاتا ہے۔یہ عزت خدا تعالیٰ دیتا ہے۔جو آپس میں لوگوں نے عزتیں بانٹیں۔اس کے لئے آپس میں سر بھی اڑائے۔یہ تو دنیا اپنا کھیل