تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 230 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 230

۲۳۰ کھیل رہی ہے۔ہم نے تو خدا تعالیٰ کے کام کرنے ہیں اور وہ کھیل نہیں۔ہم نے تو سنجیدگی کے ساتھ بنی نوع انسان کی خدمت کرنی ہے۔“ ترقیات کے غیر محدود دروازے کھولنے والی صفت حضور نے خطاب کے آخر میں خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم رکھنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ” خدا تعالیٰ کی صفات کی چوتھی بنیاد ہے: كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن آیت: ۳۰) اور اس کو باندھا ہے اس آیت سے يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ زمین و آسمان کی ہر شئے اپنی ضرورت اس سے مانگتی اس سے پاتی ہے۔عجیب اعلان ہے۔یہاں اگر ٹھہر جا تا قرآن کریم تو اس کی عظمت تو ظاہر ہو جاتی لیکن كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کے ساتھ يَسْلُهُ مَنْ فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ کہہ کے انسانوں کو شامل کیا ہے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کہہ کہ یہ اعلان کیا کہ ترقیات کے غیر محدود دروازے تمہارے اوپر ہم نے کھول دیئے ہیں۔اس کی صفات کا ہر جلوہ پہلے سے مختلف ہوتا ہے۔انسان کا خدا تعالیٰ کے قرب کی طلب میں ہر قدم پہلے سے آگے بڑھنا چاہئے۔اس لئے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ سے فائدہ اٹھانے کے لئے خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق، ہر آن اس کے حضور عاجزانہ متضرعانہ دعا کے ساتھ قائم کرنا ضروری ہے جو ممکن نہیں جب تک ہم نہایت عاجزی کے ساتھ اس کے حضور نہ جھکیں اور اسی کی مدد سے اس کے ساتھ زندہ تعلق کو قائم کریں۔غیر محدودترقیات کے دروازے یہ اعلان کھولتا ہے۔اللہ کے فضل سے ہر قدم فلاح اور رفعت کی طرف بڑھتے رہنا چاہئے کیونکہ (یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا فقرہ ہے ) انسان اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور تمام اوقات میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا محتاج ہے“۔اس واسطے ہر احمدی کو انفرادی طور پر اور جماعت کو جماعتی طور پر اور جماعت احمدیہ کو اجتماعی طور پر اپنے تمام کمالات اور تمام حالات اور تمام اوقات میں خدا تعالیٰ کی ربوبیت کے حصول کیلئے کوشش کرنی چاہئیے اور خدا کی رضا کو حاصل کر کے اپنی زندگی کے مقصود کو پالینا چاہیے تا کہ دنیا میں ایک ایسی جماعت ہو جو کسی اور کو دکھ دینے کا سوچے بھی نہ۔سب کے سکھ کا سامان پیدا کرنے کی نیت سے اپنا قدم آگے بڑھا رہی ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا کرے آمین۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا: اب ہم دعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ایسے حالات پیدا کرے کہ آج وہ جو اللہ تعالیٰ کو گالیاں دینے والے ہیں ، لا اله الا اللہ کا ورد کرنا شروع کر دیں۔اور آج وہ جو انسانیت میں فساد اور