تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 228 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 228

۲۲۸ ہوگا۔اگر میں انہی کو پوچھوں کہ بتاؤ کتنی ہیں تمہاری لکھی ہوئی ہدایات تو وہ مجھے نہیں بناسکیں گے۔یہ طریق یعنی وعظ کر کے خاموش ہو جانا، یہ پرانے زمانے کے واعظوں کا تو کام ہوگا، نہ خلیفہ وقت کا یہ کام ہے، نہ خلیفہ وقت کے جوارح یعنی عہدیداروں کا یہ کام ہے۔ان کا کام تو ہے عمل معمل عمل۔عمل کے لئے میں نے سوچا کہ جو اس وقت صدر اور نائب صدر ہیں ان کے علاوہ چار چار نائب صدر ہوں گے اور ان کے ذمے ایک سے زائد شعبے ہوں گے تین تین چار چار اور وہ مجھے مہینے میں ایک بار صرف یہ رپورٹ دیں گے کہ ان شعبوں میں کیا کام ہوا۔یعنی عمل کے متعلق ہر مہینے رپورٹ دیں گے اور ہر مہینے مرکز میں ایک دفعہ مجلس توازن کی یہاں میٹنگ ہوا کرے گی۔جب مجھے توفیق ہوگی میں بھی بیچ میں بیٹھوں گا۔ہر مہینے باہر سے بھی لوگ آئیں گے اور ہر مہینے اس میں جو ممبر نہیں ، ان کے ایک حصے کو بلایا جائے گا۔مثلاً سارے پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کر کے ہر سہ ماہی میں ایک حصہ آجائے گا۔یعنی ہر سال میں ایک دفعہ وہ یہاں آئیں گے۔ان کے سامنے باتیں ہوں گی اور جلسہ سالانہ پر غیر ملکیوں کو بھی بیچ میں شامل کیا جائے گا۔“ جسمانی صحت کے لئے سکیم حضور نے لجنہ ، خدام اور انصار کی جسمانی صحت کے لئے بھی ایک سکیم جماعت کے سامنے رکھی چنانچہ فرمایا: لجنہ کے لئے کلب بنا ئیں اور یہ عمل کی اب میں بات کر رہا ہوں۔یعنی صفات حسنہ کا رنگ ہو اور اس میں تضاد نہ ہو۔میں نے لجنہ سے کہا کہ ہر لجنہ مرات لجنہ کے لئے کھیل کو د اور ورزش کے لئے ، وہاں بیٹھنے کے لئے ، باہم نیکی کی باتیں کرنے کے لئے ) کوئی کلب بناؤ۔یہ اب سات، آٹھ سو کلبز چھ مہینے یا سال میں نہیں بن سکتیں۔اس واسطے درجہ بدرجہ ہم آگے بڑھیں گے۔پہلا درجہ یہ ہے کہ کم از کم پنجاب کی ہر تحصیل میں ایک ایک کلب بن جائے۔اور اس کے ذمہ دار لجنہ کے علاوہ انصار اور خدام الاحمدیہ ہوں۔تو یہ جواب مجلس توازن بنے گی ، ان کا کام ہے کہ اسے پورا کریں۔میں عمل چاہتا ہوں۔اس سال ہر تحصیل میں لجنہ کی ایک کلب قائم ہو جائے۔خدام کے لئے کھلی زمین مل جائے اس کے علاوہ خدام الاحمدیہ کو تو کھلی زمین ہی مل جائے ، دیوار کی ضرورت نہیں۔ہر ایسی مجلس میں