تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 227 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 227

سوچی ہیں۔۲۲۷ ایک تو مجلس توازن میں قائم کرنا چاہتا ہوں جس میں جماعت احمدیہ، انصار اللہ اور خدام اور لجنہ کے نمائندے (جس شکل میں بھی ہوں ) آئیں اور وہ میزان پیدا کریں۔ہماری ایک تو مظہر ایسوسی ایشن ہے ، ایک تو جماعت ہے وہ سب کے اوپر حاوی ہے اور نیچے دوسری ایسوسی ایشنز ہیں۔ہم سب ( صدرانجمن احمد یہ اور ذیلی تنظیمیں) ایک جہت کی طرف پورا زور لگا کر ہی کامیاب ہو سکتے ہیں۔جس طرح رسہ کشی میں سارے رسہ کھینچنے والے ایک ہی طرف زور لگار ہے ہوتے ہیں۔اگر پانچ اینگل (ANGLE) کا بھی فرق پڑ جائے کسی ایک رسہ کھینچنے والے کا تو ٹیم ہار جاتی ہے۔ایک سدھائی میں وہ رسہ کھینچا جائے تبھی ٹیم جیتی ہے ورنہ نہیں جیتی۔اس واسطے ایک سدھائی کی طرف ایک سیدھا پوائنٹ یعنی مقصد کا درجہ رکھنے والا نقطہ مرکزی ہمارے سامنے ہے۔ضروری ہے کہ صراط مستقیم پر چل کے نقطه مرکزی یعنی اصل مقصد کی طرف آگے بڑھ رہے ہوں۔ایک نئی بنیادی بات مجلس توازن کا میں اعلان کر رہا ہوں۔یہ ایک مہینے کے اندر قائم ہو جائے گی۔صدرانجمن احمد یہ انصار اللہ اور خدام الاحمدیہ ذمہ دار ہیں اور پھر لجنہ سے بھی مشورہ کریں۔“ انصار اللہ کے نظام میں تبدیلی اس کے بعد حضور نے مجلس انصار اللہ کے نظام میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ اب مرکز میں مزید چار نائب صدران ہوں گے جن کے ذمہ شعبہ جات کی نگرانی ہوگی اور وہ مہینے میں ایک دفعہ حضور کور پورٹ بھجوانے کے پابند ہوں گے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی صفات حسنہ کا رنگ اپنے اخلاق پر چڑھانا۔یہ عمل اعمال صالحہ میں آتا ہے۔یہ عقیدہ نہیں ہے، اعمال صالحہ میں ایک تو انفرادی اعمال ہیں ، دوسرے اجتماعی اعمال ہیں۔ان سارے اجتماعی اعمال کو اصل مقصد یعنی ٹارگٹ پر پوری طاقت کے ساتھ ہٹ (HIT) کرنا چاہئے۔یہ نہیں کہ خدام الاحمدیہ کہیں بٹ کر رہی ہے اور انصار اللہ اور لجنہ کہیں اور ہٹ کر رہے ہیں۔اس واسطے مجلس توازن ایک دوسرے کی نگرانی کرے گی۔اب جو میں دوسری بات کہنے لگا ہوں ، وہ اور ہے۔(حضور انور نے محترم صدر صاحب انصار اللہ سے یہ دریافت کرنے کے بعد کہ صدر کے نیچے کتنے شعبے ہیں، فرمایا ) صدر کے نیچے چودہ شعبے ہیں اور بہت سی نصیحتیں ان کو کی گئی ہیں۔میں ان کا ہدایت نامہ کل لے گیا تھا۔وہ میں نے کل دیکھا تو پھر میں نے سمجھا کہ اس میں کوئی ترمیم کرنی میرے لئے مشکل ہے۔مجھے سارا کچھ بدلنا پڑے گا۔میرا خیال ہے کہ ہر شعبے کے قائد کو بھی یاد نہیں