تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 204 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 204

۲۰۴ اس کے ذریعے سے وہ اپنی رہنمائی میں ایسی تحریکات جاری فرما دیتا ہے جو آئندہ دنیا کے نقشے سے تعلق رکھتی ہیں۔اس لئے قطع نظر اس کے کہ فی ذاتہ اطاعت میں بہت بڑی برکت ہے۔بے انتہاء برکت ہے، حضور کی یہ تحریک فی ذاتہ بھی مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات سے تعلق رکھنے والی ایک عظیم الشان تحریک تھی۔اب تو زمانے نے بھی یہ بتا دیا کہ دوسری قو میں بھی آپ کے پیچھے آ کر سائیکل کو پکڑ رہی ہیں۔جرمنی میں ، دوسرے یورپین ممالک میں اب تو یہاں تک بھی رواج ہوا کہ وزراء بھی اپنے دفتروں میں سائیکلوں پر جانے لگے ہیں۔ابھی حال ہی میں امیریکن سائنٹسٹ (AMERICAN SCIENTIST) میں ایک پیپر آیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب سائنٹسٹس (SCIENTISTS) سائیکل کو بہتر بنانے کی طرف دوبارہ متوجہ ہو گئے ہیں اور نئی نئی قسمیں، ورشنز (VERSIONS) ایجاد کر رہے ہیں۔تولیڈ رتو ہم ہیں۔ہماری خاطر ہی یہ ایجادیں ہو رہی ہیں۔خدا تعالیٰ نے جب پہلے اپنے خلیفہ کو بتایا تو صاف مطلب یہ تھا کہ آئندہ دنیا کے سائیکل سواروں کی لیڈر جماعت احمد یہ ہوگی۔پس اس نقطہ نگاہ سے آپ زیادہ سنجیدگی سے اس کی طرف توجہ کریں اور جہاں تک ممکن ہے، لوگ اس میں شامل ہوں۔سرگودھا والے ہیں لے کے آئے ہیں۔لیکن یہ تو لہو لگا کے شہیدوں میں داخل ہونے والی بات ہے۔اٹھائیس میل سے ہیں کا کیا فرق پڑ جاتا ہے۔میں سمجھتا ہوں حضرت مرزا عبدالحق صاحب بھی، ابھی بھی خدا کے فضل سے سائیکل پر آ سکتے ہیں۔بڑے باہمت جوان ہیں۔ایسا جوانوں کا جوان، اٹھاسی سال کا امیر جن کو نصیب ہو، ان کو اور زیادہ جو ہر دکھانے چاہئیں۔دور دور سے ضلع کے مختلف کناروں سے لے کے آئیں۔( مکرم مرزا صاحب کہتے ہیں ہیں نہیں سنتالیس نے لہو لگا کے شہیدوں میں داخلہ لیا ہے) اصلاح و ارشاد اصلاح وارشاد سے متعلق اس سال کی رپورٹ خدا کے فضل سے بہت ہی حوصلہ افزا اور خوشکن ہے۔بعض باتیں تیاری میں کچھ وقت لیا کرتی ہیں اور ان کا پھل کچھ مدت کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔اگر اصلاح وارشاد کی عادت باقی نہ رہی ہوتی تو میرا اندازہ تھا کہ اس کی تیاری میں چند سال لگیں گے۔میں نے شروع میں عرض بھی کیا تھا کہ ہمارے ارادے تو خدا کے فضل سے بڑے ہی رہیں گے۔مومن کو خدا نے گھٹیا، چھوٹا ارادہ رکھنے کا حق ہی نہیں دیا۔ارادے تو بلند بانگ ہی ہوں گے۔تو مومن سے اللہ تعالیٰ جو توقع رکھتا ہے اس کے پیش نظر ہم سکیم بناتے ہیں۔لیکن جہاں تک توفیق کا تعلق ہے کائنات کا جو نظام