تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 203 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 203

تربیت یافتہ ہوں ، اتنے ہی ناقص سفیر بنتے ہیں بلکہ بعض دفعہ منفی سفیر بھی بن جاتے ہیں اور جس حد تک وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت میں رنگین ہوں اس حد تک وہ اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں اور ماں باپ کے لئے رحمتوں کا موجب بنتے ہیں۔جہاں احمدیت پھیلاتے ہیں اس کا ثواب ان کے اس ماحول کو بھی پہنچتا ہے اور اس مجلس کو بھی پہنچتا ہے جہاں انہوں نے تربیت پائی تھی۔تو یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو ہم کر سکتے ہیں۔اپنے تمام عزیزوں کو خط و کتابت کے ذریعے سمجھائیں کہ وہاں نیک نمونہ قائم کرو، شرمندگی کا موجب نہ بنانا پاکستان کو۔خدا نے ہمیں پہلے تو فیق عطا فرمائی تھی۔ہماری ماؤں بہنوں کو تو فیق عطا فرمائی تھی کہ اپنے کپڑے دے کے، زیور دے کے، آئے بچا کے اور اگر دو، دو آنے بچے تو وہ بھی پیش کر دیئے۔اس طرح وہ مشن قائم ہوئے ہیں۔اس کی تاریخ کو دیکھو۔ان لوگوں کی تاریخ کو دیکھو جنہوں نے اپنی نو بیاہتا بیویوں کو چھوڑ دیا اور آپ بھی بوڑھے ہوئے اور وہ بھی بوڑھی ہو گئیں تب ان ملکوں سے واپس آئے۔جن کو بلانے کے لئے کرائے تک ہمارے پاس نہیں ہوا کرتے تھے۔اس پس منظر میں تم وہاں پہنچے ہو۔تمہاری اپنی کوئی خوبی نہیں ہے۔یہ تمہارے بڑوں کی قربانیوں کا ثمرہ ہے جو تم کھا رہے ہو۔اس دولت کے نتیجے میں اندھے نہ ہو جانا اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا۔جس کا جو رشتہ دار (انصار اللہ میرے مخاطب ہیں ) جہاں جہاں بھی بیرون ملک پایا جاتا ہے۔اس کو خصوصیت کے ساتھ ، درد کے ساتھ نصیحتوں کے خط لکھنا شروع کرے۔یہاں آئیں تو ان کو سمجھائے اور دعائیں کرے ان کے لئے۔بیرونی دنیا میں جو کام بڑھ رہا ہے اس کا ہم پر تقاضا ہے کہ جو میں خاص طور پر آپ سے عرض کرنا چاہتا تھا۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ کا دل مهبط انوار ہوتا ہے سائیکل کی جو مہم حضور نے جاری فرمائی ہے۔یہ ایک قسم کی پیشگوئی کا رنگ بھی رکھتی تھی۔جب حضور نے سائیکل مہم شروع کی کہ سائیکل سوار بنو اور سائیکل کے ذریعہ باہمی رابطہ پیدا کرو تو اس زمانے میں تو پیٹرول کا کوئی مسئلہ ہی نہیں پیدا ہوا تھا۔ابھی تک آئل ویپن (OIL WEAPON) کا تصور دنیا کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔جو تیل سے براہ راست تعلق رکھتے تھے ، ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ اگلے ایک دوسال میں کیا حالات ظاہر ہونے والے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کا تصرف تھا۔اس کو میں الہام تو نہیں کہ سکتا کیونکہ جب تک خلیفہ وقت نہ کہے کہ یہ الہام ہوا تھا ، اس وقت تک کوئی بھی نہیں کہہ سکتا، نہ حضور نے فرمایا۔لیکن جماعت خدا تعالیٰ کی براہِ راست نگرانی میں حرکت کر رہی ہے اور خلیفہ وقت اس نگرانی کا مرکز ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خلیفہ کا دل مہبطِ انوار ہوتا ہے اور