تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 78
ZA علیہ السلام نے جو معجزات دکھا کے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور پیار کو پیدا کرنے کی کوشش کی ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اُن معجزات کی ضرورت نہیں تھی۔اس واسطے کہ اس زمانہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جن کو مخاطب کرنا تھا اُن کا مزاج بدل چکا تھا۔وہ ایک نیا SET معجزات کا مطالبہ کر رہا تھا۔جیسا اُن کا مزاج تھا اُس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اُن کو معجزات دکھائے اور اپنی عظمت کو قائم کیا اور وہ جو اَنَا رَبُّكُمُ الاعلی کہنے والا تھا۔اسے جو حقیقی رب ہے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى حقیقی اعلیٰ رب تو خدا ہے ) اُس نے اپنے علوشان اور عظمت کے ظاہر کرنے کے لئے اور معجزے دکھائے۔حضرت عیسی علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے تابع نبی تھے۔آپ کی شریعت کے مطابق معاشرے کو قائم کرنے والے لیکن یہود کی زندگی کے اندر مزاج بدل چکا تھا۔حضرت عیسی علیہ السلام اُن کو سمجھانے کے لئے ایک اور قسم کے معجزات لے کر آئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کامل تعلیم لے کے آئے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامل تعلیم لے کے آئے۔قیامت تک کے لئے جس قسم کے معجزات کا مطالبہ ہر صدی کا مزاج کر سکتا تھا، اُس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ معجزات کے ظاہر ہونے کا سبب پیدا کر دیا۔چنانچہ ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ مثلاً یہ آپ ایک بات یا درکھیں۔وہ کسی احمدی کو بھولنی نہیں چاہئیے کہ اب ہم جس زمانے میں داخل ہو گئے ہیں جس زمانے کی طرف میں بات کرتا آپ کو لے آیا، اس کے لئے ضروری ہے کہ بعثت نبوی کے بعد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کوئی شخص اپنے طور پر کچھ بھی خدا سے حاصل نہیں کر سکتا۔جو کچھ بھی پاسکتا ہے، وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ہی پاسکتا ہے۔اس لئے قیامت تک جو ظاہر ہونا تھا، وہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجے میں ظاہر ہونا تھا۔خلافت راشدہ کے زمانے میں بھی معجزے ہمیں نظر آئے۔بعد کی صدیوں میں ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح جو اولیاء اللہ آئے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالا اور آپ کے وجود باجود میں اپنی استعداد کے مطابق فانی ہوئے ، اپنے اپنے زمانہ میں انہوں نے بھی نشان دکھائے۔یہ ہمارے لاہور میں ہی داتا صاحب ، یہ جس وقت آئے یہاں بیٹھے ہیں وہاں اس علاقے میں بڑے ہندو بستے تھے اور وہ بنیا فطرت ، پیسے سے محبت کرتے تھے اور بہت سارے گجر تھے۔کثرت سے یہ آتے جاتے تھے۔دعا کریں میری بھینس ٹھیک ہو جائے۔دودھ بڑھ جائے اور خدا تعالیٰ اُن کی دعا کوسنتا تھا اور اُن کے لئے نشان بنا دیتا۔یہ نشان ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نشان ، داتا صاحب کی وساطت سے ان لوگوں کو پہنچ رہا تھا۔تو جیسے اُن کے دنیوی