تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 77 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 77

22 اُن کے والدین کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ خدام الاحمدیہ کے اصول کے مطابق اپنے احمدی بچوں کی تربیت کریں۔انصار اللہ اس لحاظ سے ہماری جماعت میں سب سے زیادہ فعال حصہ ہونا چاہیئے۔میں نے پہلے بھی بتایا کہ وہ فعال کشتی میں نہیں۔وہ فعال اپنے میدان میں ہیں۔اُن کو تجربہ ہے۔عمر گذاری ہے اکثر نے بہتوں نے نہیں بھی۔لیکن اکثر نے ایک عمر گزاری ہے اس تربیت میں۔ان کی ذمہ واریاں آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ نے بڑھائی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ ایک ہی دن میں آٹھ یا دس یا چار یا پانچ بچے نہیں جنتے۔اگر ایک دفعہ ہی ماں بچے جن دیتی تو سارے بچوں کی ذمہ واری یکبار پڑ جاتی۔اب تو ایک بچہ ہوا۔وہ بچہ باپ کو بتاتا ہے کہ کس طرح تربیت کرنی ہے۔اور بہت سی غلطیاں جو پہلے بچے کی تربیت میں بعض لوگ کر جاتے ہیں، دوسرے بچے کی تربیت میں اس کو CORRECT کرتے ہیں، اُس کی اصلاح کرتے ہیں۔انصار اللہ کا نمبر جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے، تربیت کا تجربہ اس کا بڑھتا چلا جاتا ہے۔اس لئے جو جماعتی ذمے داریاں ہیں وہ سب سے زیادہ انصار اللہ کو یعنی ممبران انصار اللہ کوادا کرنی ہیں۔CONSCIOUSLY بیدار ہو کر اُن کو نبھانے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ہماری بنیادی ذمہ داری ہماری بنیادی طور پر ایک ہی ذمہ داری ہے۔وہ یہ ہے کہ دین اسلام کو دلائل کے ساتھ ، نشانات کے ساتھ ، معجزات کے ساتھ محبت کے ساتھ، پیار کے ساتھ ، حسن اخلاق کے ساتھ ، بے لوث خدمت کے ساتھ ، اسلام کے حسن کو دنیا کے سامنے پیش کر کے اور اللہ نے اسلام میں جو قوتِ احسان پیدا کی ، اُس کے مطابق اپنی زندگی نبھا کے دنیا کو اس کی طرف کھینچنا ہے۔جذب کرنا ہے جس طرح مقناطیس لو ہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ہر احمدی کو ہر غیر مسلم کے لئے جذب پیدا کرنا ہے اور اس زمانہ میں اسلام کی طرف اُسے لے کے آنا ہے۔زمانہ زمانہ کے مزاج بدل جاتے ہیں اور مزاج کے ساتھ زمانے کی ضرورت بدل جاتی ہے۔زمانے کی سمجھ بوجھ اور عقل میں ایک تبدیلی آتی ہے۔آج سے مثلاً پانچ سات سو سال پہلے یوروپی انڈسٹریل ریوولیوشن ہمیں اُفق حیات انسان پر نظر نہیں آ رہی تھی۔اُس وقت اُس معاشرے کے مطابق انسان کی عقل تھی۔اُس کے مطابق انسان کو سمجھانے کے لئے ایک خاص قسم کے دلائل تھے۔اس وقت اسلام کے حسن کا ایک خاص پہلو تھا جو سامنے رکھنا پڑتا تھا۔معجزات ایک خاص قسم کے تھے جس کا مطالبہ وہ زمانہ، وہ مزاج کر رہا تھا۔آپ انبیاء کی تاریخ پر غور کریں۔کسی نبی کے معجزات بعد میں آنے والے نبی کی زندگی میں دہرائے نہیں گئے۔اس میں بہت سی اور حکمتیں بھی ہیں جن کی تفصیل میں اس وقت میں نہیں جاتا۔ایک بات تو واضح ہے نا کہ حضرت ابراہیم