تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 48
۴۸ کے ساتھ دنیا نے بندھنا ہے۔جس کے ساتھ خدا کے ساتھ تعلق قائم ہوتا ہے۔یہ حبل اللہ ہے اور خدا عظیم خدا اگر ایک بندہ کی لغزشیں دیکھ کر اسے معافی دینا چاہے تو دیتا چلا جائے گا۔کوئی نہیں جو روک سکے لیکن اگر کوئی اس کی رسی پر ہاتھ ڈالتا ہے اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے لئے یہی پیغام ہے۔اے آنکہ سوئے من بدویدی بصد تبر از باغباں بنترس که من شاخ مثمرم مسیح موعود علیہ السلام کے بعد شاخ مشمرم وہ شاخ ہے جس پر ہمیشہ روحانیت کے پھل لگتے رہیں گے ، وہ خلافت ہے۔اس شاخ پر اگر کسی نے بد نظر کی تو یقینا تباہ اور برباد کر دی جائے گی۔خائب و خاسر کی جائے گی۔وہ ہاتھ کاٹے جائیں گے جو بد نیتی سے اس کی طرف اٹھیں گے۔اس لئے ہمیشہ کامل غلامی کے ساتھ خلافت کی اطاعت کا عہد کریں اور اس پر قائم رہیں۔اختتامی اجلاس سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثالث گیارہ بج کر اٹھائیس منٹ پر مقام اجتماع میں تشریف لائے۔اختتامی تقریب کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا جو مکرم قاری عاشق حسین صاحب نے کی۔اس کے بعد مکرم ثاقب زیروی صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ ”لاہوڑ نے اپنے مخصوص لحن میں اپنی ایک نظم سنائی۔اجتماع کے موقعہ پر علمی اور ورزشی مقابلوں میں امتیاز حاصل کرنے والوں میں حضور پُر نور نے اپنے دست مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے۔سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا اختتامی خطاب سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اپنے ایمان افروز اور عہد ساز اختتامی خطاب میں انصار کو سچے مومن کی نو قرآنی صفات اپنے اندر پیدا کرنے کی نہایت پر اثر تلقین فرمائی اور پہلی صدی کے آخری دس سالوں کے بارہ میں ایک نہایت انقلاب آفریں پروگرام کا اعلان بھی فرمایا۔حضور کے اس تاریخی خطاب کا خلاصہ حضور ہی کے الفاظ میں پیش ہے۔تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: ”سورہ انفال کی پانچویں آیت یوں ہے۔اولیک هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَ رَجُتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمُ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مذکورہ بالا صفات رکھنے والے جن کا ذکر پہلی چار آیات میں آیا ہے۔سچے مومن ہیں۔ان کے رب کے پاس ان کے لئے بڑے بڑے مدارج، بخشش کا سامان اور معزز رزق ہے۔اس سے ہمیں پتہ لگا کہ مومن دو قسم کے ہیں قرآنی