تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 35 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 35

۳۵ کہ ان کی کوششوں کو بہت اچھا پھل لگے گا۔مرکزی نقطہ یہ ہے کہ آپ کی نیت پاک ہو اور خالصہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہو اور کسی طرح کی تمنا یا نمود و نمائش کا اس میں شائبہ تک نہ ہو۔جب میں یہ کہتا ہوں تو میری مراد یہ نہیں ہے کہ وہ بیمار جن کی نیتیں غالب طور پر نمود وریا کی ہوتی ہیں، وہ ہمارے اندر کام کر رہے ہیں نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ۔جماعت احمدیہ کا معیار اللہ تعالیٰ کے فضل سے اتنا بلند ہے اور مشکلات اور مصائب اتنی ہیں کہ بدنیت آدمی کی یہ مجال ہی نہیں کہ یہاں داخل ہو جائے۔ایک منافق اور غیر مخلص میں یہ محبت کہاں ہے کہ گالیاں کھائے۔گھر جلوائے ،اولاد میں ذبح کروائے اور پھر وہ جماعت میں داخل ہو۔اس لئے ہرگز یہ مراد نہیں۔میں دعویٰ سے یہ بات کر رہا ہوں۔جہاں سے حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے کہ آپ کی اُمت کی بات کی جائے۔جہاں سے قرآن کریم آغاز کرتا ہے۔هُدًى لِلْمُتَّقِينَ متقیوں سے بات کر رہا ہوں۔لیکن متقیوں کے لئے جو مزید ہدایت کے باریک رستے ہیں ان کے متعلق گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ہر انسان جو خالص نیت کے ساتھ کام شروع کرتا ہے جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار میں آپ نے سنا۔اس کے لئے امن کا مقام ان معنوں میں نہیں ہے کہ وہ کامل یقین سے کہہ سکے کہ میری نیت خالصہ پاتال تک صاف ہو چکی ہے۔بہت سے نفس کے پردے ہیں۔بہت سی نفس کی سرکشیاں ہیں جو متقیوں کو بھی آزماتی رہتی ہیں۔یہاں تک کہ صرف وہ لوگ ان نفس کے حملوں سے پاک ہوتے ہیں جو خدا کے نزدیک معصوم ہیں۔ان کے سوا نچلی منازل کے تمام لوگ ہمیشہ ایک امتحان میں مبتلا رہتے ہیں۔مستقل دعا سے سہارا مانگو اس لئے پاکیزہ اور متقی وجودوں سے مخاطب ہو کر میں یہ عرض کرتا ہوں کہ بظاہر منتیں کتنی ہی پاک اور صاف ہوں نفس کے دھوکے سے غافل مت رہیں کیونکہ بسا اوقات شیطان کچھ نہ کچھ ملونی انسان کی نیت میں ضرور داخل کر دیتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو۔اگر مستقل دعا سے سہارا نہ مانگا جائے تو بیماری کا کیڑا ایک طرف سے کھانا شروع کر دیتا ہے اور اس کا بعض دفعہ پتہ بھی نہیں لگتا اور آتش خاموش کی طرح کئی دفعہ اندر اندر وہ سب کچھ کھا جاتا ہے اور انسان کو اس وقت معلوم ہوتا ہے جبکہ سب کچھ ہاتھ سے جاچکا ہو اس لئے قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق کہ رابطوا اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو تب تمہارا قلب محفوظ رہے گا۔نیتوں کے معاملہ میں بھی اپنی سرحدوں کی حفاظت کیجئے۔ادنیٰ سے ادنی ، باریک سے باریک ریا اور نمود اور انانیت کے کیڑے کو اپنی نیتوں کو چکھنے کی بھی اجازت نہ دیجئے۔اور یہ کام اللہ تعالیٰ کے فضل اور دعا سے کرتے رہنے کے سوا ممکن ہی نہیں۔آپ میں سے جو