تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 30 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 30

ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخرین کون ہیں اور حضور" کا جوابا یہ ارشاد ہے کہ ایمان جب اُٹھ جائے گا تو ان میں سے دوبارہ واپس لائے گا۔حضور نے اس وقت صحابہ کے مجمع میں سے حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا کہ وہ شخص حضرت سلمان فارسی کی نسل سے ہوگا اور یہ بھی اشارہ فرمایا کہ وہ اتنی دیر بعد آئے گا۔یعنی جب ایمان جو قوت عمل پیدا کرتا ہے، اُٹھ جائے گا۔کتاب رہے گی۔اور اس سے یہ بھی مترشح ہوتا ہے کہ حضرت رسول کریم کا لایا ہوا ایمان اور آپ کے ذریعہ جو ہدایت ملی ہے اس کا عرصہ اتنا کم نہیں ہے کہ فوراً ختم ہو جائے گا بلکہ رسول کریم کے بعد کی صدی جو ایمان سے بھر پور ہے پھر اس سے اگلی صدیوں میں جو اس سے کم ہوگی پھر اس سے اگلی صدی ذرا اور کم ہوگی۔پھر ان تین صدیوں کے بعد ایک ہزار سال کا عرصہ گزرے گا اور اس طرح تاریک رات بھیگتی چلی جائے گی اور تب ضرورت پیش آئے گی کہ دنیا میں از سر نو ایمان برؤے کار آئے۔جن آخرین کا ان آیات میں ذکر ہے اور جن کے متعلق صحابہ کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ وہ کب ہوں گے۔حضور نے فرمایا کہ وہ دیر میں آئیں گے اور دور آخرین میں ان کا ورود ہوگا۔یہ ایمان اتنی جلدی دنیا سے اٹھنے والا نہیں بلکہ یہ بتدریج ہوگا، اس میں دیر لگے گی۔اور اس کے لئے صدیاں درکار ہیں اور اس طرح اس آنے والے اور آخرین کے زمانہ کا تعین بھی فرما دیا۔اور پھر یہی نہیں بلکہ یہ بھی وضاحت فرما دی کہ اگر چہ ان آیات میں میرا ذکر ہے لیکن یہ نہیں ہوگا کہ میں بنفس نفیس اپنے جسم کے ساتھ آؤں گا بلکہ یہاں آپ کے ایک غلام کی خبر دی گئی ہے جس کا آنا آقا کا آنا ہی شمار ہوگا۔ایسا غلام جو کلیۂ کامل اطاعت اور غلامی کے لحاظ سے وہ ہے میں چیز کیا ہوں“ کا مصداق ہوگا اور اس کا سب کچھ اس کے آقا کا ہی ہوگا۔پھر یہاں ایک اور وضاحت اس سوال کی بھی فرما دی کہ حضور تو عربوں میں سے مبعوث ہوئے ہیں اور قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق آنے والا عربوں میں سے ہوگا یا غیر عربوں میں سے۔اس سوال کا جواب بھی حضور کے اس حکیمانہ جواب میں موجود ہے۔اس وقت صحابہ کی مجلس میں حضرت سلمان فارسی کے علاوہ کوئی بھی غیر عرب موجود نہ تھا بلکہ حضرت سلمان فارسی کے علاوہ وہاں تمام عرب صحابہ جمع تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے مجمع میں سے صرف حضرت سلمان فارسی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر وحی خفی کے مطابق ارشاد فرمایا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جب ایمان ثریا پر چلا جائے گا تو اس کی نسل میں سے ایک فارسی الاصل مبعوث ہوگا جو ایمان کو ثریا سے واپس لائے گا اور دینِ اسلام کو ایک بار پھر لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کا مقام عطا کرے گا۔یہاں پھر ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا اہل بیت میں سے ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اہل بیت جسمانی میں سے ہوگا یا اہل بیت روحانی میں سے۔یہ سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اور ارشاد سے حل ہو جاتا ہے اور وہ اس حدیث کے ساتھ مطابقت بھی رکھتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احزاب کے موقع پر حضرت سلمان