تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 29
۲۹ بارے میں اصولی بحث ہوئی جس میں آٹھ نمائندگان نے مختلف پہلوؤں پر مفید مشورے دیئے۔اس کے بعد تفصیلی بحث میں بھی کئی دوستوں نے حصہ لیا اور بجٹ کو زیادہ موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے متعلق آراء پیش کیں۔بالآخر مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے مجموعی بجٹ آمد و خرچ بابت سال ۱۹۸۰ء بقدر تین لاکھ نانوے ہزار کوشوری نے بالا تفاق منظور کر لینے کی سفارش کی۔محترم صدر مجلس نے اس کو منظور فرمالیا اور ارشاد فرمایا۔مجلس عاملہ مرکز یہ یہ خوب محسوس کرتی ہے اور یہ فیصلہ شدہ بات ہے کہ حتی المقدور جتنی آمد زیادہ ہوگی اس کو مفید راستوں پر خرچ کیا جائے گا تاہم انسانی کمزوری کی وجہ سے فیصلے میں کوئی غلطی نظر آئے تو انصار اللہ صرف شوری کا انتظار نہ کیا کریں بلکہ جس وقت کسی کے ذہن میں کوئی تجویز آئے اس وقت لکھ کر بھجوا دیا کریں۔مرکز اس پر بڑے غور کے بعد جتنی جلدی ہو سکا، اس کے مفید حصول پر عملدرآمد کی کوشش کرے گا۔“ اسی کے ساتھ شوری کی کارروائی پونے دو بجے بعد دو پہر بخیر و بخوبی اختتام پذیر ہوئی۔﴿۱۵﴾ اجلاس سوم ( کھانے کے وقفہ کے بعد ) دوسرے دن کا تیسرا اجلاس سوا تین بجے بعد دو پہر ناظم ضلع سیالکوٹ مکرم با بو قاسم الدین صاحب کی صدارت میں شروع ہوا۔تلاوت و نظم کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے قرآن کریم کا درس دیا۔آپ نے سورہ جمعہ کی پہلی پانچ آیات کا ترجمہ اور تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ذکر فرمایا ہے۔آپ نے اول و آخر دور میں جو روحانی انقلاب دنیا میں برپا کرنا تھا، اُس کا خلاصہ اس سورۃ میں بیان کیا گیا ہے۔وہ خدا جس نے اُميين میں سے رسول مبعوث فرمایا، اس کے لئے آسمانوں اور زمین میں موجود سبھی تسبیح کرتے ہیں اور وہ رسول کتاب و حکمت سکھاتا ، سب کو متقی اور پاکباز بنا تا چلا جارہا ہے اور اس سے پہلے وہ لوگ جاہل تھے اور آخرین میں بھی یہی رسول مبعوث ہوگا کیونکہ وہ اول و آخر دونوں کا رسول ہے اور آخرین گوا بھی صحابہ سے نہیں ملے لیکن ایک دن ملنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ غالب اور اپنے منشاء کو پورا کرنے والا ہے۔قرآن کریم کی جب یہ آیات نازل ہوئیں تو صحابہ کے دل میں سوال پیدا ہوا کہ آخرین کون ہیں اور وہ مبارک گروہ کونسا ہے جس کی خبر قرآن کریم کی ان آیات میں دی گئی ہے اور فرمایا گیا ہے کہ وہ گر وہ ابھی صحابہ سے نہیں ملا لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ ان سے ملے گا اور اس کے متعلق ایک صحابی نے رسول پاک سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون ہیں۔حضور نے جواب نہ دیا۔اس صحابی نے اپنے سوال کا اعادہ کیا۔حضور خاموش رہے۔تیسری بار جب یہی سوال دو ہرایا گیا تو رسول پاک نے فرمایا لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقَا عِنْدَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ یعنی جب ایمان دنیا سے اُٹھ جائے گا تو ان میں سے ایک شخص اسے دوبارہ واپس لائے گا۔حضور پاک کے اس جواب پر اگر غور کیا جائے تو کئی امور سامنے آتے