تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 456
۴۵۶ قرآن کریم جو مکرم عبد القادر بھو یا صاحب نے کی ، مندرجہ ذیل خطابات ہوئے۔برکات خلافت از مکرم عبدالعزیز صاحب۔تحریک جدید و وقف جدید از مکرم شمس الرحمن صاحب - صد سالہ احمد یہ جوبلی از مکرم فاروق احمد صاحب۔رہبانیت اسلام کی رو سے از مکرم عبد الرحمن صاحب ناظم اعلیٰ اور قبولیت دعا از مکرم انور علی صاحب نائب ناظم اعلیٰ۔اس اجلاس کے بعد والی بال کا دلچسپ میچ انصار اور خدام کی ٹیموں کے درمیان ہوا جو انصار اللہ نے جیت لیا۔یہ میچ بہت زیادہ پسند کیا گیا۔چوتھا اجلاس بوقت چھ بجے شام تا ساڑھے سات بجے شام ہوا۔باجماعت نماز مغرب وعشاء کے بعد کارروائی کا آغاز مکرم مطیع الرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا۔مکرم اعجاز احمد صاحب نے صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔مندرجہ ذیل احباب نے تقاریر فرمائیں۔مکرم احمد تو فیق چوہدری صاحب ( اقامت الصلوۃ)۔مکرم سید اعجاز احمد صاحب مربی سلسلہ ( مالی قربانی)۔مکرم اے۔ٹی چوہدری صاحب ( اسلامی عبادات کا موازنہ )۔مکرم عبدالعزیز صادق صاحب ( احمدیت کا غلبہ، اس کی پیشگوئیاں )۔تقاریر کے بعد چوتھے اجلاس کا اختتام ہوا اور تمام انصار شب بخیر کرتے ہوئے اپنی قیام گاہ میں چلے گئے۔تیسرے دن کی کارروائی کا آغاز چار بجے صبح بیداری سے ہوا۔مکرم مولانا عبدالعزیز صاحب نے نماز تہجد و فجر باجماعت پڑھائی اور درس قرآن مجید دیا۔مکرم مشہود الرحمن صاحب نے ملفوظات کا درس دیا۔اس کے بعد مکرم شیخ عبدالغنی صاحب کی قیادت میں جسمانی ورزش کا پروگرام عمل میں آیا۔ورزش کے بعد ناشتہ کیا گیا۔دوسرا اجلاس نو بجے صبح سے بارہ بجے دوپہر زیر صدارت مکرم عبدالرحمن صاحب ناظم اعلیٰ ہوا۔تلاوتِ قرآن اور نظم کے بعد مجلس شوری منعقد ہوئی۔اس میں بنتیں مجالس کے نمائندگان شامل ہوئے۔سب سے پہلے معتمد عمومی صاحب نے سالانہ رپورٹ پیش کی اور مجالس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔بعدہ معتمد صاحب تجنید ، معتمد صاحب اصلاح وارشاد، معتمد صاحب مال اور معتمد صاحب صحت و جسمانی نے اپنے اپنے شعبہ کی رپورٹیں پیش کیں۔پھر ایجنڈ ا پر بحث ہوئی اور ساڑھے بارہ بجے یہ اجلاس بخیر وخوبی دُعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔آخری اجلاس دو بجے بعد دو پہر تا ساڑھے چار بجے شام زیر صدارت مکرم ڈاکٹر عبدالصمد خان صاحب چوہدری نائب امیر بنگلہ دیش منعقد ہوا۔تلاوت قرآن مجید مکرم مولوی انور علی صاحب نے کی اور نظم مکرم مولوی فاروق احمد صاحب نے پڑھی جس کے بعد مکرم بھو یا صاحب ناظم اعلیٰ نے حضرت مصلح موعود کے کارنامے کے عنوان پر تقریر کرتے ہوئے حضور کے پچاس سالہ سنہری دور خلافت پر روشنی ڈالی۔صدارتی خطاب میں مکرم نائب امیر صاحب نے تبلیغ اور تعلیم و تربیت پر زور دیتے ہوئے انصار ، خدام، لجنہ اور اطفال کو عملی نمونہ بہتر بنانے کی