تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 450
۴۵۰ پیغام حق پہنچایا گیا۔نیز سوالات کے جوابات دیئے گئے۔سیدنا حضرت خلیفہ مسیح الثالث کے وصال پر ملال پر قرارداد تعزیت اور سید نا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع کے انتخاب پر قرار داد تہنیت پاس کر کے بھجوائی گئی۔تمام انصار نے اپنا فارم تجدید بیعت پر کر کے بھجوایا۔حضور کی فرینکفرٹ آمد پر پانچ انصار نے دستی بیعت کا شرف حاصل کیا۔مجلس ہائیل برون (HEIL BRON): مجلس کا قیام مئی ۱۹۸۱ء میں ہوا۔انصار کی تعداد تین تھی۔نائب صدر ملک کی نگرانی میں منتظم عمومی مکرم منظور احمد صاحب شاد کو مقرر کیا گیا۔۱۹۸۱ء کا سالانہ بجٹ ۵۲۲ مارک اور ۶۰ فینی تھا۔مجلس نائے برگ (NEUBURG): اس مجلس کو مئی ۱۹۸۱ء میں قائم کر کے مکرم سید کلیم احمد شاہ صاحب کو نائب صدر ملک کی نگرانی میں منتظم عمومی مقرر کیا گیا۔یہاں چار انصار تھے۔۱۹۸۱ء کا سالانہ بجٹ ۵۳۷ مارک اور ۴۰ فینی تھا۔مجلس DORSTER: دو انصار پر مشتمل تھی اور اس کے زعیم مکرم عطاء المنان صاحب تھے۔سالانہ اجتماعات پہلا سالانہ اجتماع مجلس انصار اللہ مغربی جرمنی کو مورخہ ۲۴ ۲۵ نومبر ۱۹۷۹ء بمقام فرینکفرٹ پہلا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق ملی۔انصار کو اجتماع سے قبل بذریعہ ڈاک پروگرام اجتماع ارسال کیا گیا۔مغربی جرمنی میں انصار کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔تا ہم فرینکفرٹ اور ہیمبرگ کے علاوہ دیگر شہروں سے سے ہیں انصار نے اس اجتماع میں شمولیت کی۔اس موقعہ پر فرینکفرٹ کے خدام نے مکرم منصور احمد خان صاحب مشنری انچارج مغربی جرمنی کی نگرانی میں مہمان اراکین کے قیام وطعام کا نہایت عمدہ اہتمام کیا۔پہلا اجلاس: افتتاحی اجلاس کی کارروائی کا آغا ز ۲۴ نومبر کو نماز ظہر و عصر کی باجماعت ادا ئیگی کے بعد ساڑھے تین بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔جس کے بعد انصار نے اپنا عہد دوہرایا۔نظم کے بعد مکرم منصور احمد خان صاحب نے افتتاحی خطاب فرمایا۔آپ نے کہا کہ مغربی جرمنی میں انصار اللہ کی تعداد گو بہت کم ہے لیکن محض اس وجہ سے ہم اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہو سکتے۔ہمیں چاہیئے کہ ہم جماعت احمدیہ کی نئی نسلوں کے لئے بہترین نمونہ پیش