تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 434
۴۳۴ انتظامات کے سلسلہ میں قابل قدر خدمات کو سراہا اور آئندہ ان کی مزید ترقی اور کامیابی کے لئے دعا کی۔تقسیم انعامات اور دُعا : مکرم نائب صدر صاحب نے اعزاز پانے والے انصار میں انعامات تقسیم کئے اور آئندہ سال ساتواں سالانہ اجتماع زاریہ کے مقام پر منعقد کرنے کا اعلان کیا۔دعا کے ساتھ یہ اجتماع کامیابی و کامرانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔9 ساتواں سالانہ اجتماع مجلس نائیجیریا کا ساتواں سالانہ اجتماع ۲۷۔۲۸ ستمبر ۱۹۸۰ء کو شمالی علاقہ کے ایک اہم شہر زار یہ میں منعقد ہوا۔جماعت کی زیادہ تعداد جنوب کے علاقوں سے تعلق رکھتی ہے، اس کے باوجود انصار اپنے اجتماع میں شرکت کے لئے دُور دراز کا سفر کر کے زار یہ پہنچے اور اجتماع کو کامیاب بنایا۔زیادہ نمائندگی ایلے۔ایفے جماعت کی تھی جہاں سے ایک سپیشل بس میں باسٹھ اور بذریعہ ریل گاڑی بارہ افراد تشریف لائے۔نیز مبلغین کرام ،مجلس نصرت جہاں کے تحت کام کرنے والے بعض اساتذہ اور دیگر پاکستانی احباب بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔اس اجتماع کے موقع پر زاریہ کی نئی سنٹرل مسجد کا سنگ بنیا درکھا گیا۔نیز حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دورہ نائیجیریا کی فلم دکھائی گئی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ دیگر تنظیموں کی طرح انصار کا اجتماع بھی ہر سال مختلف جماعتوں میں باری باری منعقد ہوتا تھا۔استقبال : مورخه ۲۷ ستمبر ۱۹۸۰ء مکرم امیر صاحب پونے بارہ بجے کے قریب زار یہ پہنچے تو زاریہ کی جماعت نے شہر سے کئی میل باہر آ کر مکرم امیر صاحب کا استقبال کیا۔جلسہ گاہ جلسہ گاہ مسجد سے باہر سڑک کے ساتھ شامیانے لگا کر بنائی گئی تھی۔دوستوں کے بیٹھنے کے لئے کرسیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔حاضری قریب پانچ سو تھی۔جلسہ گاہ میں مختلف جماعتوں نے اپنے بینرز لگائے ہوئے تھے۔افتتاحی اجلاس: نماز ظہر وعصر کی ادائیگی کے بعد مکرم مولانا محمد اجمل صاحب شاہد امیر جماعت نائیجیریا کی زیر صدارت پہلے اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔کارروائی کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم عزیز الرحمن صاحب خالد نے کی۔پھر دو چھوٹی بچیوں نے ترانہ پڑھا۔جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے نائیجیریا کا پرچم اور پریذیڈنٹ جماعت نائیجیر یا مکرم الحاج عبد العزیز ابیولا صاحب نے لوائے احمدیت لہرایا۔اس دوران فضا نعرہ ہائے تکبیر سے گونجتی رہی۔بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے انصاراللہ کا عہد دہرایا۔خطاب مکرم امیر صاحب: مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر کے شروع میں اجتماع پر آنے والے احباب کو خوش آمدید کہا اور دُعا کی کہ آنے والوں کی تعداد میں ہمیشہ اضافہ ہوتا رہے۔آپ نے واضح کیا کہ جماعت احمدیہ کا تعلق کسی خاص علاقہ یا کسی خاص زبان سے نہیں ہے بلکہ یہ ساری دنیا کے لئے ہے۔احمدیت کا تعلق صرف یورو با لوگوں سے