تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 400 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 400

۴۰۰ اکسیر مربی ضلع نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کے جانشین ، پانچویں تقریر مکرم مولوی نصیر الدین صاحب بھٹی نے تعلیم القرآن اور چھٹی تقریر مکرم سید حسین احمد صاحب مربی وزیر آباد نے نماز با جماعت کے موضوع پر کی۔اس کے بعد تلاوت قرآن کریم ، تقاریر اور دینی معلومات کے مقابلے ہوئے۔آخر میں مکرم عبدالقادر بھٹی صاحب ناظم ضلع نے انصار اللہ کی ذمہ داریاں" کے موضوع پر تقریر کی۔کھانے کے بعد نماز جمعہ وعصر پڑھی گئی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں قُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا کے حکم کی تشریح فرمائی اور احباب کو اس پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی۔اجلاس دوم کی کارروائی صدر محترم کی زیر صدارت عمل میں آئی۔تلاوت نظم اور عہد کے بعد مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر نے احباب کو اصلاح وارشاد کے پروگرام پر عمل کرنے کی تلقین کی جبکہ مکرم مولوی محمد اعظم صاحب اکسیر نے ” قدرت ثانیہ کے موضوع پر تقریر کی۔آخر میں صدر محترم نے انعامات تقسیم فرمائے اور اپنے خطاب میں انصار کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے اس ضمن میں مختلف مثالیں بیان فرمائیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ خود لوگوں کی رہنمائی بذریعہ خواب و کشوف فرما رہا ہے۔آخر میں صدر محترم کے ارشاد پر مکرم مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر نے دعا کروائی۔یہ اجلاس پانچ بجے ختم ہوا۔تیسرا اجلاس مکرم چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب امیر ضلع کی کوٹھی پر بعد نماز مغرب وعشاء منعقد ہوا۔اس میں ڈیڑھ صد کے قریب معززین موجود تھے۔رات دیر تک مجلس مذاکرہ جاری رہی۔مختلف احباب نے سوالات کئے جن کے جواب حضرت صاحبزادہ صاحب نے نہایت احسن رنگ میں بیان فرمائے۔جس کا سب احباب پر بہت اچھا اثر ہوا۔۷۹ صدر محترم کا دورہ گوجرہ ۱۲ اکتوبر بروز جمعتہ المبارک مجلس مرکزیہ کے مجوزہ پروگرام کے مطابق مسجد احمد یہ گوجرہ میں ایک اجتماع منعقد ہوا۔جس میں مقامی اور مضافات کے احمدی حضرات و خواتین نے شرکت کی۔حاضرین کی تعداد انداز آ پانچ سوتھی۔حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب صدر مجلس نے نماز جمعہ پڑھائی۔آپ نے خطبہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے پر ایک پُر معارف وعظ فرمایا اور حاضرین کو کثرت سے ذکر الہی کرنے اور اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات سے کو لگانے کی تلقین فرمائی۔آپ نے نہ صرف سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقوال و افعال کی روشنی میں بلکہ خود اپنی ذاتی زندگی سے بھی یہ حقیقت ثابت فرمائی کہ جو اللہ تعالیٰ کا ہو جاتا ہے، ساری دنیا اس کی ہو جاتی ہے۔آپ نے فرمایا۔کسی کام کے لئے محض دنیاوی اسباب پر سہارا رکھنا ایک احمدی کی شان نہیں ہے۔ایک احمدی کی شان اسی میں ہے کہ وہ صرف اپنے خدا سے ہی رجوع کرے اور اس سے سب کچھ مانگے۔