تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 373
امام ہیں۔وقف زندگی ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ جب میں احمدی ہوا، وہاں کے ایک دوست درزی تھے ، بڑے نیک دل۔دراصل میں ان کی نیکی کو دیکھ کر ہی احمدی ہوا تھا۔ان کی باتوں میں سچائی تھی۔ان میں پاکیزگی نظر آتی تھی۔کوئی بناوٹ نہیں تھی، کوئی تصنع نہیں تھا۔کپڑے سی رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بڑی سادگی سے پیغام پہنچارہے ہیں۔دلیلیں کام نہیں کرتی تھیں۔اُن کی باتوں میں جو نیکی کا اثر تھا ، وہ دلوں پر اثر کرتا تھا۔کہتے ہیں، میں احمدی ہو گیا تو میں نے اپنے والد کے لئے فکر کی ، بڑا زور مارا، بہت کوشش کی ، بڑے بڑے علماء سے ملوایا مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ایک دفعہ خوش قسمتی سے حضرت مولوی شیر علی صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔میں نے مولوی صاحب سے عرض کیا کہ میرے والد صاحب کو کوئی نصیحت فرمائیں۔یہ احمدی نہیں ہور ہے۔مجھے بڑی فکر ہے تو مولوی صاحب نے ان سے پوچھا کہ کبھی قادیان آئے ہیں۔انہوں نے کہا نہیں۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ پھر قادیان آنا۔اور بات ختم۔میجر صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دل پر عجیب اثر ہوا کہ میں تو بڑے شوق سے مولوی صاحب کو لایا تھا۔مگر انہوں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔کبھی قادیان نہیں آئے تو قادیان آنا۔اور بات ختم۔جلسہ سالانہ کے دن آئے اور میں قادیان جانے کی تیاری کر رہا تھا تو میرے والد نے کہا مجھے بھی ساتھ لے جانا، میرا دل چاہتا ہے میں بھی جاؤں۔میں نے حیران ہو کر دیکھا۔میں نے کہا، میں نے تو بڑی کوششیں کی تھیں۔انہیں خیال کیسے آیا۔کہنے لگے، ایک دفعہ جو تم نے ایک آدمی ملایا تھا نا۔اس کے ایک فقرے میں اتنی طاقت تھی، اتنی قوت تھی کہ میں برداشت نہیں کرسکا۔اس وقت میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ میں ان کی یہ بات ضرور پوری کروں گا اور قادیان جاؤں گا۔جو بلی ۱۹۳۹ء کا جلسہ سالا نہ ہورہا تھا اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی تقریر فرما رہے تھے جب یہ پہنچے ہیں۔کہتے ہیں کہ آدھی تقریر ہی میں وہ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے کہ میں بیعت کرنی چاہتا ہوں۔سمجھا بجھا کر ان کو بٹھایا۔بالآ خر دوسرے روز کہنے لگے ، اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔مجھے بیعت کرواؤ۔تو ایک چھوٹا سا فقرہ تھا جو ایک نیک دل، پاکباز انسان کے دل سے نکلا تھا۔خدا نے اس میں اتنی قوت بھر دی تھی۔اس لئے یہ علم کی چالاکیاں ، یہ ہوشیاریاں ، یہ مناظرے کے ایچ بیچ، یہ کوئی کام نہیں آتے۔حقیقت میں وہ دل کی صداقت ہے اور دعا ہے اور خدا کا فضل ہے جو کام آیا کرتا ہے۔اس لئے آپ دلوں میں خدا کی محبت بھر دیں گے تو پھر بظاہر جو جاہل آدمی ہے، اس کی بات میں بھی قوت پیدا ہو جائے گی۔وہ انقلاب جس کے لئے ہم تڑپ رہے ہیں ، وہ آنا شروع ہو جائے گا آپ کی بستیوں میں، آپ کے ماحول میں ، ارد گرد کے دیہات میں۔کوئی کام مشکل نہیں رہے گا۔یہ وہ چیز ہے جس کو سکھانا چاہیئے اور اس پر انصار کو بہت زیادہ زور