تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 372 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 372

ہے۔اس کے پس پردہ جو اور احسانات کا ایک سلسلہ جاری ہے۔چونکہ وہ آنکھوں کے ماہر ہیں ان کو اچھی طرح پتہ ہے۔اس میں سے چند انہوں نے سنائے تو ہم حیران رہ گئے۔پس خدا کی محبت حاصل کرنے کی راہ میں کوئی چیز بھی حائل نہیں ہو سکتی۔اگر انسان غور کرنے کی عادت ڈال لے فکر کی عادت ڈال لے۔ادنی علم کا آدمی ادنی علم سے محبت حاصل کرے گا۔اعلی علم کا آدمی اعلیٰ علم سے محبت حاصل کرے گا۔مقامات میں فرق ہو گا لیکن دونوں کیلئے محبت کی راہیں بہر حال آسان ہیں۔اس لئے انصار سے میری گزارش ہے کہ اپنے اندر زندگی کی طاقت پیدا کریں۔خالی ظاہری تنظیم سے وابستہ لوگ، ظاہری طور پر اطاعت کرنے والے لوگ یا ظاہری طور پر لبیک کہنے والے کافی نہیں ہیں۔اگر انصار میں اللہ سے محبت رکھنے والے، اللہ سے براہ راست زندگی پانے والے اور براہ راست قوت پانے والوں کی تعداد بڑھنی شروع ہو جائے تو اتنی عظیم الشان طاقت جماعت میں پیدا ہو جائے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی طاقتیں ان کے سامنے بیچ ہوں۔ہر فرد بشر کے روحانی خواص کو تربیت دینا اور ان میں زندگی کی روح پھونکنا، ہمارا اولین کام ہے۔پس اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔ہر جگہ ، ہر گاؤں میں سادہ سے سادہ آدمیوں کے سامنے بھی خدا تعالیٰ کی محبت کے تذکرے عام کر دینے چاہئیں تا کہ دلوں میں پیار پیدا ہو۔پھر اللہ انہیں خود سنبھال لے گا۔اہل اللہ جو ہیں، ان پر محنت نہیں کرنی پڑتی۔ساری مشکلات آسان ہو جاتی ہیں تنظیموں کی ، اگر خدا سے پیار کرنے والے لوگوں سے واسطہ ہو۔انسان قرآن کریم کے قربان جائے ایسا با ربط مضمون بیان فرماتا ہے اور ہر چیز اس طرح کھولتا ہے کہ دل عش عش کر اُٹھتا ہے۔اس مضمون کو کھولتے ہوئے دعا سکھاتا ہے۔وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اے میرے رب امام تو بنا۔قیادت کی کس کو خواہش نہیں ہے۔مگر متقیوں کا بنانا۔مزہ تو اس امامت میں ہے کہ متقی ہوں۔کیونکہ فاسقوں کا امام بنے میں کوئی بھی فائدہ نہیں ہے بلکہ فاسقوں کے امام فاسقوں سمیت جہنم میں پہنچ جایا کرتے ہیں۔اس لئے تقویٰ کی روح محبت الہی ہے۔محبت کرنے والے انصار پیدا کریں۔ہر جگہ ، ہر سوسائٹی میں، ہر طبقہ میں۔پھر دیکھیں کہ انصار کا مقام کتنا بلند ہو جاتا ہے، کتنی قوت آجاتی ہے ان کی پاک صحبت میں۔جو خدا کی راہ میں وہ قدم اٹھا رہے ہیں، ان میں ایک شوکت پیدا ہو جائے گی۔ان کی آواز میں برکت پیدا ہو جائے گی۔ان کے کلام میں برکت پیدا ہو جائے گی۔ان کی ہر کوشش با برکت اور بارآور ہوگی۔وہ تبلیغ کریں گے، ان کی باتوں میں طاقت پیدا ہو جائیگی۔صرف چالا کیوں سے تبلیغ نہیں ہوا کرتی۔دلوں کا انقلاب قوت قدسیہ سے ہوتا ہے۔یہی کہوٹہ جس کا ذکر پہلے آیا تھا ر پورٹ پڑھنے میں۔یہاں کے میجر عبدالحمید صاحب ہمارے کہوٹہ کے رہنے والے ہیں جو آجکل نیو یارک میں