تاریخ انصاراللہ (جلد 2)

by Other Authors

Page 370 of 492

تاریخ انصاراللہ (جلد 2) — Page 370

کی بے ہودہ حرکتوں سے جلتے اور نفرت کھاتے ہیں۔وہ جتنا زیادہ بھونڈا اظہار کرتے ہیں اپنی محبت کا، وہ اتنا ہی زیادہ اُن سے بھاگتے ہیں اور وہ حیران ہو جاتے ہیں اور جب وہ شاعر بن جاتے ہیں تو ساری عمر روتے رہتے ہیں کہ ہم تو محبوب کی خاطر مر مٹے اور نفرت بڑھ گئی۔اور بھی کھنچتا جاتا ہے بے کہ جتنا کھینچتا ہوں ،اور کھنچتا جائے ہے مجھ سے غالب یہ شکوہ کرتے ہیں۔لیکن حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر بے شمار رحمتیں ، درود اور برکتیں ہوں کہ ایسا رستہ بتا دیا کہ کھینچنے سے اس کے محبوب کا سوال ان معنوں میں نہیں رہا کہ وہ اور کسی طرف کھنچے جتنا اپنی طرف کھینچو گے ، اتنا تمہاری طرف کھنچتا آئے گا۔یہ مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں کوئی خدشہ باقی نہیں رہا، کوئی غلطی کا امکان نہیں رہا، ایک بھی ادا نہیں ہو سکتی جو خدا تعالیٰ کو نا پسند ہو حالانکہ دنیا میں بڑے پیار کر نیوالے بھی ایسی باتیں کر جاتے ہیں محبت کے اظہار میں معصومیت میں بھی، نادانی میں یا اپنی تخلیق کی بناوٹ کے لحاظ سے غلطیاں کھانے والے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ بتایا کرتے تھے کہ مجھ سے پیار کے اظہار کے طور پر بعض لوگ میری جائے نماز پر گلاب کا عطر لگا جاتے ہیں اور مجھے اتنی الرجی ہے گلاب کی کہ مدتوں اس کی سزا بھگتا ہوں اور کہتا ہوں اللہ رحم کرے اس شخص پر، اس نے اچھی مصیبت ڈال دی ہے مجھے پر۔محبت کا اظہار تو ہوالیکن الٹا محبوب کو تکلیف پہنچائی گئی۔یہاں تک ہوتا تھا بعض دفعہ کہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی سفر کر رہے تھے ایک دفعہ سندھ کا ، تو عورتیں ، مرد وغیرہ مختلف اسٹیشنوں پر سلام کرنے کے لئے آتے تھے اور زیارت کرنے کے لئے۔ایک عورت آگے بڑھی مصافحہ کرنے کے لئے۔حضور نے فرمایا نہیں بی بی مصافحہ نہیں کرنا۔اس کے بعد اس نے ہاتھ لگایا۔حضور سمجھے کہ شاید تبر کا مجھے ہاتھ لگا کر بچ کر رہی ہے۔کچھ دیر بعد ر ان پر کچھ چھپاتی سی چیز محسوس کی۔ہاتھ لگایا تو ہاتھ بھیگ گیا۔رومال کے لئے فوراً جیب میں جو ہاتھ ڈالا تو جیب میں جلیبیاں بھری ہوئی تھیں۔اب وہ عورت بے چاری اپنی محبت کے اظہار میں جیب میں جلیبیاں ڈال رہی ہے۔تو اتنا نادان انسان ہے بے چارہ کہ پیار بھی کرنا نہیں آتا اور جب فرق زیادہ ہو جائے مزاج کا ، تو رستہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے جو حضرت خلیفہ اسیح الثانی اور اس عورت کے مزاج کا فرق تھا۔تو بندے اور خدا کے مزاج میں تو بہت فرق ہے۔کوئی نسبت ہی نہیں۔کس طرح محبت کریں کہ خدا کو پسند بھی آجائے۔جلیبیاں ڈالنے والے نہ ہو جائیں ہم۔اس کا جواب اللہ تعالیٰ دے رہا ہے۔قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبُكُمُ اللهُ اے بنی نوع انسان اچھلو اور کو دو، میں عاشق صادق تمہارے آگے آگے چلتا ہوں اور یقین دلاتا ہوں کہ خدا